کتاب: چہرے اور ہاتھوں کا پردہ - صفحہ 75
تیسرا شبہ
بعض لوگوں کاخیال ہے کہ سورۃ الاحزاب کی آیت[يُدْنِيْنَ عَلَيْہِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِہِنَّ۰ۭ ]میں جو اوڑھنیاں لٹکائے رکھنے کاحکم ہے ،یہ چہرہ ڈھانپنے کومستلزم نہیں ہے، لغت میں اس معنی کی کوئی تائید نہیں ملتی۔
جواب:اوڑھنی لٹکائے رکھنے کی صورت یہی ہے کہ اسے پیشانی پر باندھا جائے؛ تاکہ وہ پہلے سرکی چوٹی اوربھنووں کیلئے ساتر بن جائے،پھر اسے اس طرح لٹکایاجائے کہ وہ پورے جسم کو ڈھانپتی ہوئی قدموں تک پہنچ جائے اور انہیں بھی ڈھانپ لے،اللہ تعالیٰ کے فرمان :[يُدْنِيْنَ عَلَيْہِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِہِنَّ۰ۭ ]کی تفسیر میں بہت سے صحابہ اور تابعین سے قولاًوعملاً،چہرے کا ڈھانپنا ہی منقول ہے ،جلابیب کی تفسیر میں عنقریب یہ نکتہ آئے گا۔
جہابذہ علماء ومفسرین،جنہیں لغت میں بڑی مہارت واتقان حاصل ہے،جلابیب لٹکانے کی یہی تفسیر کرتے ہیں کہ عورتیں اپنی اوڑھنیوںکے ساتھ،اپنے پورے چہروں کو ڈھانپ لیں،اور ایک آنکھ جس سے دیکھنا ممکن ہو،کے علاوہ چہرہ کا کوئی حصہ ظاہر نہ کریں۔
(شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں :ایک آنکھ کو ظاہرکرنے کی رخصت راستہ دیکھنے کی خاطر ہے ،اوراگر یہ ضرورت نہ ہو تو اس آنکھ کوظاہرکرنا بھی درست نہیں ہے۔)
علامہ نسفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:جب کسی عورت کاکپڑا چہرے سے سَرک جائے تو اس سے کہاجاتا ہے :أدنی ثوبک علی وجھک.یعنی:اپنا کپڑا اپنے چہرے پر ڈال لے۔ (نسفی کا یہ قول[يُدْنِيْنَ عَلَيْہِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِہِنَّ۰ۭ ]کی تفسیر ہے۔)[1]
[1] روضۃ المحبین لابن قیم ص : ۲۰۲
[2] روضۃ المحبین لابن قیم ص : ۹۷
[3] مغنی المحتاج
[4] نیل الأوطار للشوکانی:۶/۶۰۳-۶۰۴