کتاب: چہرے اور ہاتھوں کا پردہ - صفحہ 66
اگر وہ شخص شکست خوردہ ہونے کے باوجود،رات کی تاریکی میں بھی،جبکہ دشمن بھی پیچھے کھڑاہو(میرے ممدوح کا )خوبصورت چہرہ دیکھ لے (تودیکھتا ہی رہ جائے گا،جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک انسان پر کتنا ہی مشکل اور نازک وقت ہو ،مگر ایسے وقت میں بھی اگر کسی خوبصورت عورت کا چہرہ اس کے سامنے آجائے تو وہ وقت کی تمام نزاکتیں فراموش کرکے ،اسی کی سوچ میں ڈوب جائے گا،اور اگر ایک فارغ البال اور خوش خرم انسان دیکھ لے تو اس کی کیفیت کیا ہوگی؟) خوبصورت چہرہ،آنکھوں اوردلوں کیلئے مقناطیسی کشش رکھتا ہے ،اسے عقول وقلوب پر اپنا اثر جمانے کی پوری پوری قوت وصلاحیت حاصل ہے ،جب یہ بات معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی پیشِ نظر ہے :[وَخُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِيْفًا۝۲۸ ]انسان تو بہت کمزور پیداکیاگیاہے۔تو اس کی تفسیرمیں امام طاؤس اور دیگر علماءسلف کایہ قول ضرور مدِ نظر رہنا چاہئے ،وہ فرماتے ہیں :(انسان اس قدر کمزور پیداکیاگیا ہے)کہ جب کسی عورت کودیکھے گا تو صبر نہیں کرسکے گا۔[1] ان تمام حقائق کی معرفت کے بعد بھی اگرکوئی شخص عورت کیلئے چہرے کو کھلارکھنے کی اباحت کاقول اختیار کرے گا،تو اس کا یہ قول فتنوں کے دروازے کھول دے گا، لہذا فتنوں کو ٹالنے کیلئے اس قسم کے قول کو چھوڑنا ہی بہترہے۔ امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :شریعت نے عورتوں کو،مردوں سے اپنا چہرہ ڈھانپنے اورچھپائے رکھنے کاحکم دیا ہے ؛کیونکہ چہرہ کی بے پردگی ان کے تمام محاسن کھول دے گی،جس سے بڑے بڑے فتنے جنم لیں گے۔[2] امام الحرمین[3] اور ابن رسلان [4]نے عورتوں کے کھلے چہرے کے ساتھ
[1] زینت کی دوقسمیں ہیں: ایک پوشیدہ ،جیسے چہرہ اور ہتھیلی ،او ر یہ چیزیںتخلیقی ہیں ۔اسی طرح پازیب ،بالیاں اور کنگن ۔ اور یہ چیزیں کسبی ہیں۔ان زینت کی چیزوں کے اظہار کی ممانعت ان کی جگہوں کو بالاولیٰ شامل ہے۔ دوسری قسم وہ زینت ہے جو کسبی اورظاہری ہیں،جیسے کپڑے ۔یوں بھی کہاجاسکتا ہے کہ زینت دوطرح سے ہے، ایک وہ زینت ہے جسے صرف محارم دیکھ سکتے ہیں اور وہ پوشیدہ زینت ہے چاہے وہ کسبی ہویاتخلیقی،اور ایک وہ زینت ہے جسے غیرمحرم بھی دیکھ سکتے ہیں اور وہ ظاہری اورکسبی زینت ہے کہ جس کا چھپانا ممکن ہی نہیں،جیسے اوڑھنی یا کپڑوںکے اندر سے ظاہر ہونے والی ہیئت وغیرہ۔