کتاب: چہرے اور ہاتھوں کا پردہ - صفحہ 58
قاضی ابویعلی فرماتے ہیں:یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ بوڑھی عورت کیلئے،اجنبی مردوںکی موجودگی میں، اپنے چہرے اور ہاتھوں کاکھولنا مباح ہے،البتہ اس کے بالوں کی طرف نگاہ اٹھانا حرام ہے،جیسا کہ ایک جوان عورت کے بالوں کاحکم ہے(یعنی بوڑھی عورت کیلئے بھی اجنبی مردوں کی موجودگی میںبال کھلے رکھنا ناجائزہے)[1] (بوڑھی عورت کیلئے اپنے چہرے اورہاتھوں کے کھلارکھنے کی اجازت )اس بات کی کھلی اورروشن دلیل ہے کہ جوان عورت کیلئے اجنبی مردوں کے سامنے اپنے چہرے اور ہاتھوں کو کھلارکھنے کی کوئی اجازت یااباحت نہیں ہے؛کیونکہ یہ آیت کریمہ صرف بوڑھی عورتوں کیلئے،رخصت بیان کررہی ہے ،نہ کہ نوجوان عورتوں کیلئے ۔ کپڑے اتار رکھنے کی تفسیر: عاصم الاحول فرماتے ہیں:میں حفصہ بنت سیرین کی خدمت میں حاضرہوا،میں نے دیکھا کہ وہ اپنے پورے کپڑے پہنے،تشریف فرماتھیں،میں نے عرض کیا :اللہ تعالیٰ نے کپڑوں کے تعلق سے،آپ کی عمرکی عورتوں کو رخصت دے رکھی ہے ،فرمان ہے: [وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاۗءِ الّٰتِيْ لَا يَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَيْسَ عَلَيْہِنَّ جُنَاحٌ اَنْ يَّضَعْنَ ثِيَابَہُنَّ] ( النور:۶۰) ترجمہ:بڑی بوڑھی عورتیں جنہیں نکاح کی امید (اورخواہش ہی)نہ رہی ہو وہ اگرا پنے کپڑے اتاررکھیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں۔ انہوں نے فرمایا:آگے بھی پڑھو: [وَاَنْ يَّسْتَعْفِفْنَ خَيْرٌ لَّہُنَّ۝۰ۭ ] ( النور6۰) ترجمہ:تاہم اگر اس سے بھی احتیاط رکھیں توان کیلئے بہت افضل ہے ۔
[1] ہم ایک مثال کے ذریعے نصو ص میں بظاہر تعارض کے موقع پر احتمالات کی ضرورت کوواضح کرتے ہیں: یہ پرانا اشکال چلاآرہا ہے کہ کیا ابن اسحق فاطمہ بنت منذر کے پاس حاضرہوئے تھے(بغیرپردہ کے)اور ان سے حدیث لی ہے یانہیں؟اس اشکال کا باعث یہ بات ہے کہ سفیان سے ابن اسحق کے متعلق پوچھاگیا کہ کیاوہ فاطمہ بنت منذرکے پاس حاضر ہوئے تھے؟انہوں نے کہا:مجھے ابن اسحق نے خبردی ہے کہ وہ اس کے پاس حاضر ہوا اور اس سے حدیث لی ہے۔ اب سفیان کی یہ خبر یحییٰ بن سعید کے قول کے معارض ہے، وہ کہتے ہیں میںنے ہشام بن عروہ سے سنا کہ ابن اسحق نے میری بیوی فاطمہ بنت منذر سے حدیث بیان کی ہے لیکن اﷲ کی قسم !اس نے اسے کبھی بھی نہیں دیکھا۔ اب ان دومتعارض خبروں میں سوائے احتمالات کو تسلیم کرنے کے کوئی سبیل نہیں ہے اور ایسی صورتحال میں یہی صحیح راستہ ہے۔ امام ذھبی فرماتے ہیںکہ ابن اسحق یقیناً اپنی اس خبر میں سچا ہے اورہشام بھی یقیناً اپنی قسم میں صادق ہے اور ابن اسحق کا بھی یہ دعویٰ نہیںہے کہ اس نے فاطمہ کو دیکھا ہے بلکہ اس نے اس سے حدیث لینے کاذکرکیاہے۔انتہیٰ۔ احمد بن حنبل فرماتے ہیں ممکن ہے ابن اسحق فاطمہ کے پاس آیا ہواور اس کے پاس حاضر ہونے کی اجازت طلب کی ہواور اس نے اسے اجازت دے دی ہواور اسے جان نہ سکی ہو(یعنی یہ کوئی غیرمحرم ہے بلکہ سمجھی ہوکہ شاید کوئی محرم ہے) انتہیٰ۔ بعض ائمہ کاکہنا ہے اگر ہشام کی یہ بات درست ہے(کہ ابن اسحق نے فاطمہ کو نہیں دیکھا )تو یہ امکان ہے کہ فاطمہ نے ابن اسحق کی طرف احادیث لکھ کر بھیجی ہوںاور یہ بھی ممکن ہے کہ ابن اسحق نے اس سے اس کے شوہر کی عدم موجودگی میںاحادیث سنی ہوںاور ان کے بیچ میں پردہ حائل ہو۔انتہیٰ ذھبی فرماتے ہیںان دونوں کے متعلق یہی بات حسنِ ظن کومتقاضی ہے اورکیونکہ یہ بات معروف ہے کہ تابعین صحابیات سے احادیث لیاکرتے تھے،نیز یہ بھی امکان موجود ہے کہ ابن اسحق بچپن میں فاطمہ پر داخل ہواہواور اسے دیکھاہواوراس سے احادیث سنی ہوں۔اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس نے فاطمہ سے اس وقت احادیث سنی ہوں جب وہ انتہائی بڑھاپے کی عمر کوپہنچ چکی ہوں۔(کہ جس عمر میں عموماً پردے کے احکامات معطل ہوجاتے ہیں۔)اور یہ بھی احتمال ہے کہ فاطمہ، ابن اسحق سے کوئی رضاعی رشتہ رکھتی ہوںمثلاً خالہ وغیرہ جس بناء پر وہ ان پر داخل ہوئے ہوں اور ہشام کو اس رشتہ کا علم نہ ہو۔دیکھئے :(سیر اعلام النبلائ۷/۳۷-۳۸،۴۱-۴۲،۵۰)