کتاب: چہرے اور ہاتھوں کا پردہ - صفحہ 57
ترجمہ:اور اپنی زینت کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں، سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد کے یا اپنے خسر کے یا اپنے بیٹوں کے یا اپنے خاوند کےبیٹوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکرچاکرمردوں کے جوشہوت والے نہ ہوںیا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں…۔
یہ آیت کریمہ کسی شک وشبہ کے بغیر،عورت کے چہرے کے کھولے رکھنے کی حرمت کی دلیل ہے ؛کیونکہ اس آیت کریمہ میں زینت سے مراد،مخفی زینت ہے جو ظاہر نہ ہو، مثلاً: پازیب،کانوںکی بالیاں،ہاتھوں کی پہنچی،چہرہ،سر،سینہ اور دونوں ہاتھ۔۔
چنانچہ عورت اپنے ان محارم پر،مذکورہ اشیاء میں سے کچھ بھی ظاہر کرسکتی ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جو غیرمحرم اوراجنبی مرد ہیں،اُن پراِن میں سے کچھ بھی ظاہر نہیں کرسکتی۔[1]
(۴)اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
[وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاۗءِ الّٰتِيْ لَا يَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَيْسَ عَلَيْہِنَّ جُنَاحٌ اَنْ يَّضَعْنَ ثِيَابَہُنَّ غَيْرَ مُتَبَرِّجٰتٍؚبِزِيْنَۃٍ۰ۭ وَاَنْ يَّسْتَعْفِفْنَ خَيْرٌ لَّہُنَّ۰ۭ وَااللّٰه سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۶۰ ] (النور:۶۰)
ترجمہ:بڑی بوڑھی عورتیں جنہیں نکاح کی امید (اورخواہش ہی)نہ رہی ہو وہ اگر اپنے کپڑے اتاررکھیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ وہ اپنا بناؤسنگھار ظاہر کرنے والیاں نہ ہوں، تاہم اگر اس سے بھی احتیاط رکھیں توان کیلئے بہت افضل ہے ،اوراللہ تعالیٰ سنتا جانتا ہے۔
[1] ہم ایک مثال سے متشابہ کو محکم کی طرف لوٹانے کے منہج کو واضح کرتے ہیں،بخاری ومسلم میں انس tسے مروی ہے کہ رسول اﷲe ام حرام بنت ملحان r (زوجہ عبادۃ بن صامتt)کے ہاں تشریف لے جاتے اور وہ آپ کو کھاناکھلاتیں، ایک مرتبہ آپ ان کے ہاں تشریف لے گئے،انہوں نے آپ کو کھاناکھلایا اورآپ وہیںسوگئے اور وہ آپ کی جوئیں تلاش کرنے لگ گئیں۔یہ واقعہ بہت سارے علماء کیلئے اشکال کاباعث ہے۔کیونکہ نصوصِ صریحہ غیر محرم عورت کے ساتھ تنہائی اختیارکرنے،انہیںد یکھنے اور انہیں چھونے کی حرمت پردلالت کرتی ہیں،جبکہ ام حرام کا یہ قصہ بظاہر اس محکم حکم کے معارض ہے۔چنانچہ جب ہم نے اہلِ علم کی اس قصہ کے متعلق توجیہات کامطالعہ کیا تو ہم نے یہ بات پائی کہ ان کی توجیہات کاماحصل یہ ہے کہ انہوں نے متشابہ کو محکم کی طرف لوٹایاہے نہ یہ کہ متشابہ کے ذریعے محکم کی بنیادوں کومنہدم کرنے کی کوشش کی ہے۔
ابن حجرaنے فتح الباری (باب :جو کسی قوم کے پاس جائے اور وہاں قیلولہ کرے)میں ادلہ قویہ سے اس بات کو واضح کیا ہے کہ نبی کریمeکے خصائص میں سے یہ بات بھی تھی کہ آپe کیلئے غیرمحرم عورت سے تنہائی اختیار کرنا اور اسے دیکھنا جائزتھا،اورانہوں نے کہا ہے کہ ام حرام کے قصہ کا یہی درست جواب ہے کیونکہ ام حرام اورآپeکے درمیان محرمیت اورزوجیت کا رشتہ نہ تھا۔(انتہیٰ)
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ احتمال بھی ہے کہ یہ قصہ پردے کے احکامات سے پہلے کاہو۔
دمیاطی نے کہا ہے اس حدیث میں ایسی کوئی دلالت نہیں کہ آپeنے ام حرام سے تنہائی اختیار کی کیونکہ یہ امکان موجود ہے کہ ام حرام کے ساتھ اس کابیٹا،خادم،شوہریا کوئی محرم موجود ہو،نیزیہ بات(یعنی اجنبی عورت کے ساتھ اس کے خاوندیامحرم وغیرہ کی موجودگی میںبغیر پردہ کے ملنا) ام حرام کے خصائص میں سے ہے ۔انتہیٰ
نوویaفرماتے ہیں :علماء کااس بات پر اتفاق ہے کہ ام حرام آپ کیلئے محرم تھیں،البتہ اس کی کیفیت میں اختلاف ہے۔انتہیٰ ،دیکھئے :سبیل الھدی والرشاد:۱۰/۴۴۴،۴۴۶۔