کتاب: چہرے اور ہاتھوں کا پردہ - صفحہ 49
ہی تعداد میں ہوں(اور باہم متعارض ہی کیوں نہ ہوں)مگر وہ کسی بھی قسم کے تکلف سے پاک ہوتے ہیںاور عین قرینِ عدل وانصاف ہوتے ہیں ۔[1]
[1] تفسیر ابن ابی حاتم ۱۶۸۳۲۔امام حاکم(مستدرک : ۲/۴۰۷) نے اسے صحیحین کی شرط پر قراردیا ہے اور ذھبی نے موافقت کی ہے۔ اے مسلمان بہن! تو اس دردناک صورتحال سے عبرت پکڑ جس سے آج بہت ساری، دینی تعلیم سے بے بہرہ مند نوجوان لڑکیاں دوچارہیںوہ یہ کہ وہ آج بھیڑیانماانسانوں کے ہاتھوں ایک گیند نما کھلونا بن چکی ہیں۔اس حقیقت کو آشکارہ کرنے کیلئے سابقہ حسینہ عالم مارلین مورنوکایہ قول ہی کافی ہے وہ کہتی ہے:میں یہ جان چکی ہوں کہ میں مردوں کے ہاتھوں ایک کھلوناہوں اور میں حقیقی سعادت بھری زندگی سے محروم ہوں۔ [2] ابوداؤد:۲۴۸۸