کتاب: چہرے اور ہاتھوں کا پردہ - صفحہ 191
کرے،نہ ہی یہ کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امر کے مقابلے میں اپنی رائے استعمال کرے،اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کیلئے سمع واطاعت اور قبول واذعان ہی واجب ہے۔
امام اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:محض شبہات کی بناء پر،اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ اشیاء کوحلال کرنے والو ں کیلئے بربادی ہے۔[1]
ایک شاعر نے کہا ہے:
لایضر البحر امسی زاخرا
ان رمی فیہ سفیہ بحجري
(موجوں سے بھرپور سمندرمیں اگر کوئی احمق پتھر پھینک دے،تو اس سے سمندر کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا)
[1] النھایۃ لابن الاثیر:۲/۵۰۵
[2] فتح الباری:۱/۲۹۸-۳۰۰