کتاب: چہرے اور ہاتھوں کا پردہ - صفحہ 167
تیسری بات یہ بھی ہوسکتی ہے کہ باہر لونڈیاں بھی چلتی پھرتی ہیں،جن کیلئے چہرہ کھلا رکھنا جائز ہے۔(لہذا مردوں کو نظریں جھکائے رکھنے کاحکم دیا) پھر یہ بھی ممکن ہے کہ عجمی عورتیں(مراد غیرمسلم) اپنے برہنہ پن کے ساتھ چلتی پھرتی ہیں،چنانچہ مسلمانوں کے بہت سے شہروںمیں یہودی اورعیسائی عورتیں سکونت پذیر تھیں، کچھ تو سرزمین حجاز میں بھی موجود تھیں،تاآنکہ امیر المؤمنین عمربن خطابرضی اللہ عنہ نے انہیں جزیرئہ عرب سے نکال دیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سعید بن ا بی الحسن نے حسن بصری رحمہ اللہ سے کہا: عجمی عورتیں اپنے گریبان اورسر ننگارکھتی ہیں؟حسن بصری نے فرمایا: تم اپنی نگاہیں پھیر کر رکھاکرو۔[1] (یہ بھی نگاہیں نیچی رکھنے کے حکم کا ایک سبب ہوسکتاہے) بہت سے صحابہ تجارت کی غرض سے،بلادِ کفار کا سفرکیاکرتے تھے ،ان کیلئے وہاں نظریں جھکائے رکھناضروری تھا،اس سلسلہ میں عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کا ایک واقعہ مشہور ہے:جب وہ بغرضِ تجارت دمشق تشریف لائے تو ان کی نظر لیلیٰ بنت الجودی پر پڑگئی،انہوں نے اس سے خوبصورت عورت نہیں دیکھی تھی،چنانچہ وہ اس کی محبت میں گرفتار ہوگئے ۔ پھر یہ بھی توممکن ہے کہ ایک فاجرہ عورت،قصداً اپنا چہرہ کھلارکھ کر کسی مسلمان کو دعوتِ گناہ دے (لہذا یہ بھی وہ حالت ہے جس میں مرد کو اپنی نگاہیں جھکائے رکھنا ضروری ہے) ابوحازم المدنی فرماتے ہیں:میں حج کے موقع پر رمیٔ جمار میں مشغول تھا،میری نگاہ ایک عورت پر پڑ گئی جس کاچہرہ کھلاتھا اور وہ انتہائی خوبصورت تھی اور رمیٔ جمار کررہی تھی، میں نے کہا:اے اللہ کی بندی!تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتی ؟اس
[1] یہ بڑی تکلیف دہ بات ہے کہ شیخ البانیaنے ایک لایعنی بحث میں اپنی بھرپور محنت ضائع کردی کیونکہ یقیناً انہوںنے اپناقیمتی وقت ’’جلباب المرأۃ،والرد المفحم‘‘کی تالیف میں خرچ کردیا ہے،حالانکہ انہیں چاہئے تھا کہ وہ نفسِ مسئلہ میں اپنی رائے چہرے اورہاتھوں کے پردہ کااستحباب،ذکرکرتے اور عزت ووقار کے ساتھ گذر جاتے اور بلاوجہ کی لمبی بحث میںنہ پڑتے کیونکہ ان کے شایانِ شان یہی طریقہ تھا،مگرمحسوس ہوتا ہے کہ لمبی بحث کے شوق نے انہیں اس تالیف پر آمادہ کیا ہے جیسا کہ سفیان ثوری نے کیا لیکن انہوں نے تو زندگی کے آخری ایام میں اپنے اس فعل پر ندامت کااظہارکیا اور اپنی اس قبیل کی کتب کے دفن کردینے کی وصیت کرگئے۔کاش شیخ البانی اپنی ساری محنت وجدوجہد اور اپنا قیمتی وقت امتِ مسلمہ کے کسی اہم قضیہ کے دفاع میں خرچ کرتے جو ایسے ضائع ہورہا ہے جیسا کہ کمینوں کے دسترخواں پریتیم۔اورہم جیسے طفلِ مکتب اس سے مستفید ہوتے۔ [2] الموافقات للشاطبی:۴/۱۲۳-۱۲۴