کتاب: چہرے اور ہاتھوں کا پردہ - صفحہ 160
قاسم امام مالک رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں :ایک شخص خواہ کتنا بڑا عالم وفاضل ہو، ضروری نہیں کہ اس کے ہرقول کو ماناجائے؛کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:[الَّذِيْنَ يَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہٗ۰ۭ ]یعنی: بشارت کے مستحق تو وہ لوگ ہیں جو (سب کی) بات سن لیتے ہیں،مگر اتباع صرف احسن کی کرتے ہیں۔[1]
پھر جوشخص اپنے واجبات کو جانتا پہچانتا ہے،مگر مستحبات پر عمل کرنے اور شبہات سے دور رہنے میں کوتاہی برتتا ہے،وہ اپنے اسلام میں برائی پیداکرنے کا مرتکب ہو جاتا ہے؛کیونکہ اس نے لایعنی اوربے مقصد کاموں پر توجہ دے ڈالی،ایسا شخص اس قابل نہیں ہوتا کہ اس کا شمار اللہ تعالیٰ کے اولیاء اور اس کے متقی بندوں میں کیاجاسکے، نہ ہی اللہ رب العزت کے سابقین اورمقربین جماعت میں داخل کئے جانے کے لائق ہوپاتاہے۔
(۲)امام شاطبی رحمہ اللہ کسی کہنے والے کاایک قول ذکر فرماکر اس کا بطلان پیش کرتے ہیں،قول یہ ہے (جب آپ پر دومسئلے متعارض ہوجائیں توکسی ایک کو اختیار کرلیں)اس قول کی تردید کرتے ہوئے امام شاطبی فرماتے ہیں:ائمہ کی تقلید کرنے والوںکو ہم نے کبھی اختیار دیا ہے کہ وہ متعارض اقوال میں،اپنے نزدیک سب سے عمدہ قول کو منتخب کرلیں،دریں صورت تو وہ سوائے اپنی خواہشات کی پیروی کے اور کچھ نہ کرسکیں گے،اور یہ مقصدِ شریعت کے سراسرخلاف ہے،لہذا اختیار دینے والا قول قطعاً صحیح نہیں ہے ۔[2]
اس کے برعکس ایک مسلمان کا فرضِ منصبی تو یہ ہے کہ وہ معرفت حق کیلئے پوری پوری کوشش کرے،جس کی صورت یہ ہے کہ وہ دلائل کامقدوربھر گہری نظر سے جائزہ
[1] ابن قیم فرماتے ہیں:امام شافعی کے قول کہ:’’نمازکامعاملہ روزوں کی طرح نہیں ہے بلکہ نماز میں اﷲ کے ذکرکے بغیر داخل نہیں ہواجاتا‘‘سے بعض متاخرین کو یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ شاید امام شافعی نماز میں زبان سے نیت کے قائل ہیں،حالانکہ ’’ذکر‘‘سے امام شافعی کی مراد تکبیر تحریمہ ہے۔(زاد المعاد،ص:۷۲)