کتاب: چہرے اور ہاتھوں کا پردہ - صفحہ 149
نو یں فصل
(رائے اور تقلید کی بناء پر استدلال)
ہمارا یہ فرضِ منصبی ہے کہ ہم جملہ مسائل میں،اختلافی امور کوکتاب وسنت کی طرف لوٹادیںاور جوقول ظاہرِ نصوص کے زیادہ قریب ہو اسے اپنالیں،یہی روش دنیا وآخرت میں،انجامِ کار کے اعتبار سے سب سے بہترین ہے،اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :
[فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى االلّٰه وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِااللّٰه وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۰ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا۵۹ۧ ] ( النساء:۵۹)
ترجمہ:اے ایمان والو!فرمانبرداری کرواللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی۔پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کروتو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف،اگرتمہیں اللہ تعالیٰ پر قیامت کے دن پر ایمان ہے۔ یہ بہت بہتر ہے اورباعتبار انجام کے بہت اچھاہے۔
امام ابن حزم فرماتے ہیں:ہمارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ،کوئی حجت نہیں ہے،اور جب سلف صالحین کے مابین کسی مسئلہ میں اختلاف کھڑا ہوجائے تو ضروری ہے اسے اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت کی طرف لوٹادیاجائے،جس کا معنی یہ ہے کہ اسے قرآن وحدیث کی طرف لوٹادیاجائے ۔[1]
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے:امام شافعی کی رائے،امام مالک کی رائے اور امام ابوحنیفہ کی رائے،میرے نزدیک یہ سب محض رائے ہیں اور میرے نزدیک یہ سب برابرہیں،حجت صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث ہیں۔[2]
[1] الإصابۃ (ترجمۃ صفیۃ )ابن ماجہ:۱۹۸۰،البتہ اس کی سند ضعیف ہے،کیونکہ اس میں علی بن زید بن جدعان راوی ہے جوکہ ضعیف ہے۔(مصباح الزجاجۃ للبوصیری:۷۰۳)
[2] مستدرک حاکم :۳۷۳-۳۷۴،احمد:۲/۱۶۹،ابوداؤد:۳۱۲۳،نسائی:۱۸۸۰،امام نسائی نے اسے معلول قرار دیا ہے۔حاکم نے صحیح علی شرط شیخین کہا ہے اورذھبی نے موافقت کی ہے۔اور شیخ احمد شاکر (التعلیق علی المسند:۶۵۷۴)نے اس کی سند کوحسن کہا ہے۔
[3] الإصابۃ(ترجمۃ الحولاء العطارہ)ابن حجر نے اس کی سند کو شدید کمزور کہا ہے۔