کتاب: چند بدعات اور ان کا تعارف - صفحہ 91
مبارک باد دیتے ہیں کہ ماشاء اﷲآج ان کے بچے نے روزہ رکھا۔ہماری گناہ گار آنکھوں نے بارہا ان محافل میں یہ مشاہدہ کیا کہ مبارک باد دینے والے اور وصول کرنے والے زیادہ تر بے روزے دار ہی ہوتے ہیں علاوہ ازیں نمازوں سے تو بالک ہی بیگانے ہوتے ہیں ۔ الاّماشاء اﷲ۔سوال یہ ہے کہ جب بچہ یا بچی پہلا روزہ رکھے تو اس کے لیئے ایسی تقاریب لازمی ہیں ؟ کیا اﷲاور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات یہی ہیں ؟ جب بچہ پہلی بار کلمہ پڑھتا ہے تو پھر کلمہ کشائی ، جب پہلی بار مسجد جائے تو مسجد کشائی، جب پہلی بار نماز پڑھتا ہے تو نماز کشائی، جب پڑھائی شروع کرتا ہے تو تعلیم کشائی، جب اسکول جانا شروع کرتا ہے تو مدرسہ کشائی، جب پہلی بار زکوٰۃ اداکرتاہے تو زکوٰۃ کشائی، جب پہلی بار جہادکرتا ہے تو جہاد کشائی، جب پہلی بار عمرہ کرتا ہے تو عمرہ کشائی، جب پہلی بار حج کرتا ہے تو حج کشائی کیوں نہیں کی جاتی؟ کیا یہ کشائی صرف روزے ہی کے ساتھ لازم ہے؟ اگر ہے تو کرنے والے قرآن و حدیث سے اس کا ثبوت دیں ورنہ اسے بدعت سمجھتے ہوئے فوراََ ترک کردیں ۔ (۵۳) حج مبارک: حج کرنا تو ایک بہت بڑی عبادت اور سعادت ہے لیکن حج کرنے کے بعد حج مبارک کی تقریب مکان پر چراغاں، میلاد شریف، وعظ، عزیزواقرباء کی دعوت سوائے بدعت کے کچھ اور نہیں۔ اس بدعت کے سبب حاجی صاحبان کے حج کے ثواب کے ضائع ہوجانے کا بھی امکان ہوتا ہے۔ حج تو ایک فریضۂ ہے اس کی ادائیگی پر مبارک دینا تو سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے لیکن مبارک باد وصول کرنے کے لیئے حج مبارک کا طغرہ مکانوں پر آویزاں کرنا سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے بلکہ یہ بدعت ہے۔ بدعت اس لیئے کہ لوگ حج مبارک کی تقاریب کارِثواب جان کر منعقد کراتے ہیں، آنے والے بھی ثواب لوٹنے کے لیئے آتے ہیں ۔ میں کہتا ہوں کہ اگر فریضہ ادا کرنے کے بعد مبارک بادیں وصول کرنا اسی انداز سے ضروری ہیں تو پھر حج سے بڑی عبادت نماز ہے۔ نمازی حضرات کو بھی چاہیئے کہ نمازیں