کتاب: چند بدعات اور ان کا تعارف - صفحہ 77
صرف ان دوباتوں سے ہی ثابت ہو جاتا ہے کہ یہ کلماتِ نیت جو کہ زبان سے ادا کیے جاتے ہیں یہ سراسر بدعت ہیں اور ان کلمات کو زبان سے ادا کرنے والے صد فیصدی بدعت پر عمل پیرا ہیں ۔ نیت در حقیقت دل کے ارادہ کو کہتے ہیں اور اسی کے بارے میں حق تعالیٰ کا ارشاد ہے: {اِنَّہٗ عَلِیْمٌ م بِذَاتِ الصُّدُوْرِ} (سورۃ الملک:۱۳) ’’بے شک وہ سینوں میں چھپی باتوں کو جانتا ہے‘‘۔ جب یہ واضح ہے کہ وہ ہماری نیتوں سے بے خبر نہیں ہے تو پھر ان کلمات کی ادائیگی عبث اور بے فائدہ ہے اسی باعث رسولُ اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو خود کبھی زبان مبارک سے اس قسم کے کلماتِ نیت ادا کیئے ہیں اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تابعداروں کو ایسی تعلیم دی۔ نماز کی اس نیت کے مانند ان نام نہاد اہل سنت نے روزے کی ایک خود ساختہ نیت بھی بنا لی ہے جو کہ نہ تو رسولُ اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، نہ کسی صحابی کے قول سے اس کا ثبوت ملتا ہے۔ الفاظِ نیت یہ ہیں : (وَبِصَوْمِ غَدٍنَّوَیْتُ مِنْ شَہْرِ رَمَضَانَ) ان کلمات کو بدعت کہنے میں مجھے کوئی باک نہیں۔ اس لیئے کہ یہ خودساختہ کلمات ہیں ۔ افصح العرب صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے ایسی گلابی عربی نہ تو کبھی سنی گئی اور نہ ہی نقل کی گئی۔ کچھ لوگ وضو کے موقع پر یہ کہتے سنے گئے ہیں : ’’میں نیت کرتا ہوں واسطے نماز فلاں فلاں کے وضوء کی ‘‘۔ الغرض نیتوں کے یہ تمام کلمات مسنون نہیں ہیں ۔ انہیں ان جاہلوں نے ایجاد کیا ہے جو عرف عام میں صوفیاء کہلاتے ہیں ۔ وجہ ایجادِ بدعت یہ ہے کہ صحیح حدیث میں ہے: ((اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ))[1] ’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے‘‘۔ لہٰذا ہر عمل سے پہلے اس کی نیت کرنا واجب ہوا۔ [1] صحیح بخاری،حدیث:۱