کتاب: چند بدعات اور ان کا تعارف - صفحہ 68
((اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ عَلیٰ آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ، اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ عَلیٰ آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلیٰ اِبْرَاہِیْمَ وَعَلٰی آلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ)) ’’اے اﷲ! رحمت بھیج محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ کی آل پر جیسے کہ تو نے رحمت بھیجی ابراہیم علیہ السلام پراور ان کی آل پر ، بے شک تو تعریفوں اور بزرگیوں والا ہے ۔ اے اﷲ! برکت نازل فرما محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ کی آل پر جیسا کہ تو نے برکت نازل فرمائی ابرہیم علیہ السلام پر اور ان کی آل پر ،بے شک تو تعریفوں والا اور بزرگی والا ہے‘‘۔[1] برادرانِ اسلام! یہ وہ درود مبارک ہے جس کی تعلیم حق تعالیٰ شانہ نے بذریعۂ جبرائیل علیہ السلام اپنے حبیب کو دی اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مقدس کلمات اپنے پیارے پیارے ہونٹوں اور برکت والی زبان سے ادا فرمائے اور اپنے صحابہ کو اس درود کی تعلیم دی ۔ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی درود کو نماز پنجگانہ میں اپنا ورد بنایا ۔کیا اس درود سے بڑھ کر بھی کوئی درود ہوسکتا ہے؟ یہ کوئی جذباتی سوال نہیں بلکہ حقائق پر مبنی سوال ہے کہ کیا اس درود کے مقابلے میں کوئی اور درود پڑھنا ( جس کی تعلیم بھی رسولُ اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں دی جس کے الفاظ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نہیں نکلے اور جو صد فی صد خود ساختہ بھی ہے ) کھلی بدعت نہیں ہے۔ وہ درود تاج ہو یا مقدّس درود لکھی ہو یا درود ہزاری ہو۔الغرض ان میں سے کوئی درود پڑھنا ہرگز کارِ ثواب نہیں ہے۔ مسنون و بہتر کو چھوڑ کر مصنوعی کو اپنا نا کم عقلی اور نادانی نہیں تو اور کیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم [1] صحیح بخاری مع الفتح ۶/۴۰۸،۸/۵۳۲،۱۱/۱۵۲۔صحیح مسلم مع النووی ۲/۴/۱۲۶۔مسنداحمدمع الفتح الربانی ۴/۲۳۔۲۴مشکوۃ، جلد اول، باب الصلوۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم وفضلہا