کتاب: چند بدعات اور ان کا تعارف - صفحہ 65
حرام کھانے والوں کی میلاد میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم بھی پہنچ جاتے ہیں، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت میں یہ حرام خوری اور رشوت خوری نعوذ باﷲ بہت زیادہ پسند ہے کہ جن کی ڈیوڑھی پر متقی پرہیز گار لوگ قدم رکھنا پسند نہیں کرتے ان کی محفل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ سمیت پہنچ جاتے ہیں جیسا کہ اکثر اہلِ بدعت دعویٰ کرتے ہیں ۔یہ امر اس سے بھی زیادہ تعجب خیز ہے کہ اکثر فاحشہ عورتیں اپنے کوٹھوں پر محافلِ میلاد کا انعقاد کر تی ہیں وہاں بھی رسولُ اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری ہوتی ہے۔ اور احتراماََ کھڑے ہو کر سلام پڑھا جاتا ہے کہ رسولُ اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں ۔ برادرانِ اسلام! جن ناپاک جگہوں پر شرفاء اپنے قدم نہیں رکھتے ان ناپاک جگہوں پر رسولُ اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے افسانے کیا ا س امر کی واضح نشاندہی نہیں کرتے کہ ایسا عقیدہ رکھنے والے در حقیقت گستاخِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہ انہوں نے رسولُ اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے زعم ِباطل اور عقائد فاسدہ سے وہاں بھی پہنچا دیا جہاں جانے والے نہ شریف ہوتے ہیں اور نہ ہی عموماً وہ شریفوں کی اولاد ہوتے ہیں ۔ یہ تمام قصوران مبتد عانہ محافل میلا د کا ہے۔ نہ یہ ہوتیں اور نہ ہی فاسد عقائد ہمارے درمیان پائے جاتے ۔ ان بدعات کو ترک کردیں اور ملاحظہ کریں کہ ان بدعات نے صر ف اسلام کی خوبصورت شکل ہی کو نہیں بگاڑا ہے بلکہ ان کے ذریعے درپردہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کردار کشی بھی کی گئی ہے۔ (۳۳) صلوٰۃ و سلام: محافلِ میلاد کے علاوہ بالخصوص جمعہ کے دن بریلویہ[1] حنفیہ کی مساجد میں نماز جمعہ کے بعد لائوڈ اسپیکر وغیرہ پر کھڑے ہوکر سلام پڑھا جاتا ہے۔ نیز فرقہ بریلویہ کی اکثر تقاریب بالخصوص محافلِ میلاد، جلسئہ میلاد، محفلِ نعت اور نعت کانفرنس وغیرہ کا اختتام بھی اس صلوٰۃ و [1] بریلوی مکتبِ فکر کی شرکیات اور گمراہیوں کی تفصیل مطلوب ہوتو علّامہ احسان الٰہی ظہیر کی کتاب’’بریلویت‘‘ کا مطالعہ فرمائیں،مطبوعہ ادارہ ترجمان السنہ،لاہور۔