کتاب: چند بدعات اور ان کا تعارف - صفحہ 60
کے پیچھے لگا دی گئی تھیں ۔ میں کہتا ہوں کہ بی بی کی صحنک بھرناجب خود بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ثابت نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیوں سے ثابت نہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسیوں سے ثابت نہیں تو ہماری سنی مائوں بہنوں نے کہاں سے اس بدعت کو اپنا لیا ہے؟ میری بہنو! ان بدعات کو چھوڑو اور بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کی سیرت کو اپنا لو۔اسی میں ہم سب کی نجات کا سامان ہے۔ (۲۷) بارہ اماموں کے پیالے: ماہ صفر کی بیس تاریخ کا دن حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے چہلم کا دن بھی کہلاتا ہے۔ بہت سے نام نہاد سنی مسلمان بارہ اماموں کے لیئے سوا من یا ساڑھے بارہ کیلو دودھ کی کھیر کے بارہ پیالوں پر نیاز دلاتے ہیں ۔اس کھیر کے پکانے میں صفائی ستھرائی کا بڑا اہتمام رکھا جاتا ہے، نیز زمانے بھر کا میوہ اس میں ڈالا جاتا ہے پھرجس کسی کو منت ماننی ہوتی ہے تو وہ کوئی ایک پیالہ اٹھا لیتا ہے جس کی کھیر اسے اکیلے کو کھانی ہوتی ہے اور پیالہ صاف کرنا منت کے پورا ہونے کیلئے مشروط ہے، یعنی اگر کسی نے پورا ایک پیالہ نہ کھایا تو اس کی منت پوری نہیں ہوگی لہٰذا منت کیلئے پورا پیالہ کھیر کھانا لازمی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ بدعت روافض کی نکالی ہوئی ہے کیونکہ بارہ امام ان ہی کے ہیں ۔ لہٰذا سنی بھائیوں کو روافض کی یہ رسم چھوڑ دینی چاہئیے۔ ویسے بھی اس رسم کا کوئی ثبوت نام نہاد بارہ اماموں میں سے بھی کسی سے نہیں ملتانہ ہی رافضی مذہب کی معتبر اور قدیم کتب میں اس بدعت کا کوئی تذکرہ ملتا ہے۔ (۲۸) امام ضامن باندھنا: شادی بیاہ اور سفر وغیرہ کے مواقع پر رافضی لوگوں کی دیکھا دیکھی بہت سے سنی حضرات امام ضامن باندھتے ہیں ۔یہ دراصل روپیہ یا اٹھنی وغیرہ کا سکّہ ہوتا ہے جسے گوٹے