کتاب: چند بدعات اور ان کا تعارف - صفحہ 35
کر ان کی اولاد کو خصوصاََ موسیٰ کاظم، علی رضا، محمدتقی اور حسن عسکری رحمۃ اللہ علیہم کو تو ہرسال کونڈے بھرنے چاہیئے تھے مگر ان صاحبان میں سے کسی ایک بزرگ سے بھی ثابت نہیں کہ انہوں نے اس بدعت کا ارتکاب کیا ہو۔ اربابِ بصیرت کیلئے یہ نکتے کی بات ہے کہ جس رسم کو آج ان کے نام لیوا بڑی دھوم دھام سے مناتے ہیں وہ ان بزرگوں سے بھی ثابت نہیں جن کے ناموں سے ان کا مذہب عبارت ہے۔ 6۔ علاوہ ازیں امام جعفر صادق رحمہ اللہ سے موسوم اور منسوب فرقے کے افراد جو کہ ایران و عراق اور مصروشام وغیرہ میں پائے جاتے ہیں، ان کی تہذیبی، تمدنی اور ثقافتی تاریخ میں یہ رسم کہیں بھی نہیں پائی جاتی ہے۔ اس رسم کو برصغیر میں غالی رافضیوں نے چودھویں صدی ہجری کے دوران ہی ایجاد کیا ہے۔ حُبِّ صحابہ رضی اللہ عنہم کے دعویدار سنی بھائیوں کو یہ بدعت فوراََ چھوڑ دینی چاہیئے ۔ (۷) رسوماتِ محرّم: [1] ماہ محرم میں بالخصوص برصغیر پاک و ہند کے علاقوں میں بہت سی بدعات اپنائی جاتی ہیں، جن میں محرم کا چاند نظر آتے ہی سیاہ لباس پہننا، سیاہ جھنڈے بلند کرنا، مجالس شہادت منعقد کرنا، نوحے اور مرثیئے پڑھنا، چولہے اوندھے کر دینا، عورتوں کا بدن سے زیورات اتاردینا، ماتمی جلوس نکالنا، زنجیروں اور چھریوں سے خود کو زخمی کرنا، تعزیئے اور تابوت بنانا، پٹہ کھیلنا، حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور دیگر شہداء کی نیاز کا شربت بنانا، پانی کی سبیلیں لگانا، کھچڑا پکانا، عاشورئہ محرم کے دوران خوشی کی تقاریب شادی وغیرہ نہ کرنااور شہادت کا سوگ ہر سال منانا وغیرہ شامل ہیں ۔ [1] اس موضوع کی تفصیل کیلئے دیکھیئے ہماری کتاب’’ماہِ محرم اور تذکرہ چند بدعات کا‘‘ مطبوعہ مکتبۂ کتاب وسنّت،ریحان چیمہ۔