کتاب: چند بدعات اور ان کا تعارف - صفحہ 115
اس کی بجائے ((تَقَبَّلَ اﷲُ مِنَّا وَ مِنْکُمْ))کے الفاظ زبان سے ادا کرنے چاہئییں کہ یہی ثابت ہے۔[1] (۷۶) دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنا: ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان سے ملنا اور باہم مصافحہ کرنا عین عبادت ہے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ثابت ہوتا ہے: ’’براء بن عازب سے روایت ہے کہ رسولُ اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’دو مسلمان جس وقت آپس میں ملتے ہیں اور سلام و مصافحہ کرتے ہیں تو جدا ہونے سے پہلے ان کو بخش دیا جاتا ہے‘‘۔[2] مصافحہ کرنے کا مسنون طریقہ تو یہی ہے کہ دائیں ہاتھ سے دایاں ہاتھ گرم جوشی سے ملایا جائے لیکن فی زمانہ اپنے آپ کو پجوانے والے ملاّؤں نے دو ہاتھوں سے دونوں ہاتھوں کا مصافحہ کرنے کی بدعت ایجاد کی ہے۔ پھر دونوں ہاتھوں کو جھک کر سینے پر رکھنا بھی اس مصافحہ کا ایک حصہ ہے۔ اور یہ مروجہ طریق سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔ دو ہاتھوں میں ایک ہاتھ کا داخل ہونا بھی چند ایک روایات سے ثابت ہے لیکن چاروں ہاتھوں سے مصافحہ کرنا اور اس کو سنت سمجھنا پھر دونوں ہاتھ سینے پر رکھنا ایک یقینی بدعت ہے اور اسکا مرتکب بدعتی ہے۔ حقیقی سنی حضرات کو چاہیئے کہ اس بدعت سے بھی احتراز کریں ۔[3] [1] بحوالہ فتح الباری۔اس سلسلہ میں علّامہ شمس الحق عظیم آبادی شارح ابوداؤد وغیرہ کا فتویٰ بھی بڑا مفصل ہے۔غرض اس موضوع کی تفصیل کیلئے دیکھیئے ہماری کتاب ’’مسائل واحکامِ قربانی وعیدین‘‘ مطبوعہ مکتبہ کتاب وسنّت، ریحان چیمہ، سیالکوٹ۔ [2] ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ،مسند احمد، صحیح الجامع الصغیر۵۷۷۷، ۵۷۷۸ [3] اس موضوع پر علّامہ عبدالرحمن مبارکپوری کا ۸۰ صفحات پر مشتمل مفصل مقالہ کتابی شکل میں شائع ہوچکا ہے، بعنوان ’’المقالہ الحسنیٰ فی سنیۃ المصافحۃ بالیدالیمنیٰ‘‘ مطبوعہ جامعہ ابراہیمیہ سیالکوٹ۔