کتاب: چند بدعات اور ان کا تعارف - صفحہ 104
کرواتے ہیں ۔ یہ تمام کام کرنے اور کروانے والے یہی نام نہاد اہل سنت ہیں ۔ان کے نزدیک خانقاہ کا درجہ مساجد سے بھی بڑھ کر ہوتا ہے اس کی دلیل ان کا یہ عمل ہے کہ ان کے دل مسجدوں کی محبت سے بیزار اور خانقاہوں کی محبت سے آباد ہیں ۔ یہ لوگ تعمیرِ خانقاہ میں اپنی رقم کارِ ثواب سمجھ کر خرچ کرتے ہیں اسی طرح اپنے صدقے، خیرات اور زکوٰۃ کی رقم کو بلکہ قربانی کی کھالیں بھی خانقاہوں پر صرف کرتے ہیں ۔ میں کہتا ہوں کہ خانقاہیں اپنے وجود کے اعتبار سے بدعت اور اپنے عمل کے اعتبار سے شیطانی اڈے ہیں ۔ میں کسی لاگ و لپیٹ کے بغیر یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہر خانقاہ اﷲکے گھر کی ضد میں بنائی گئی ہے۔ چاہے اس میں مسجد ہی کیوں نہ ہو۔ جہاں غیر شرعی ریاضتیں ہوتی ہیں چلّہ کشی ہوتی ہیں ، معرفت کے نام سے کفریہ عقائد کی تعلیم دی جاتی ہے، طریقت کے نام سے بدعات کی ترویج ہوتی ہے،سلوک کی منازل سے گزارنے کے نام پر منکرات کو پھیلایا جارہا ہے، مراقبہ کے نام سے ہندورسم کا احیاء ہورہا ہے، پیراپنے مریدوں کو کشف کے نام پر دھوکہ دے رہا ہے، جنت و دوزخ کا مشاہدہ کرانے کے نام پر احادیث کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، روحوں سے ملاقات کرانے کے بہانے شیطان کو حاضر کرکے لوگوں کو گمراہ کیا جارہا ہے اور اﷲاور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کادیدار کروانے کے نام پر لوگوں کا ایمان تلف کیا جارہا ہے وہاں خیر کہاں ؟ (۶۴)مساجد،مدارس اور گھروں میں مُردوں کی تدفین: [1] یہ بات نہ صرف شعائر اسلامی میں داخل ہے بلکہ دنیا کے دیگر مذاہب میں بھی اس بات کا نہایت شدومد کے ساتھ اہتمام کیا جاتا ہے کہ مردوں کی تدفین کے مقامات رہائشی مقامات وغیرہ سے علیحدہ ہوں چنانچہ اسی مقصد کے تحت قبرستان بنائے جاتے ہیں جہاں [1] اس موضوع کی تفصیل کیلئے دیکھیئے ہماری کتاب’’مساجد ومقابر اور مقاماتِ نماز‘‘ مطبوعہ کتاب وسنّت،ریحان چیمہ،سیالکوٹ۔