کتاب: برھان التفاسیر لإصلاح سلطان التفاسیر - صفحہ 427
برہان: یہ ترجمہ عربی علم ادب اور قرآنی محاورے کے خلاف ہے۔ ایسے موقع پر مثل کا لفظ تحسین کلام کے لیے ہوتا ہے۔ عرب کا مشہور شاعر امرؤ القیس کہتا ہے إلی مثلھا یرنو الحلیم صبابۃ إذا ما اسبکرت بین درع ومجول[1] قرآن مجیدمیں بھی یہی محاورہ ہے۔ غور سے سنیے! {لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ} [الشوریٰ: 11] خدا کی مثل جیسا یعنی خدا جیسا کوئی نہیں۔ پس معاصر موصوف کا ترجمہ عربی علم ادب بلکہ خود قرآن مجید کے خلاف ہے۔ اطلاع: چونکہ پادری سلطان محمد خان صاحب کی طرف سے تفسیر القرآن کا مضمون تین مہینوں سے نہیں آیا، اس لیے سر دست دونوں صفحات اکمل البیان کو دیے جاتے ہیں تاکہ یہ جلد ختم ہو۔ (اہلحدیث امرتسر 27/صفر 1354 ؁ھ مطابق 31/ مئی 1935؁ء ص:11)[2]
[1] ایسی محبوبہ کی طرف سمجھدار آدمی بھی محبت سے جھکتا ہے جب اوڑھنی اور دوپٹہ لے کر سیدھی ہوتی ہے۔ (دیوان امرؤ القیس، ص: 5) اس شعر میں مثل کا لفظ زائد ہے۔ [2] مراجعہ تمام شد۔ اسعد اعظمی۔ یوم الجمعۃ۔ 3/محرم 1432؁ھ مطابق10/دسمبر 2010 ؁ء