کتاب: برھان التفاسیر لإصلاح سلطان التفاسیر - صفحہ 424
کو موحد ان معنی سے لکھا ہے کہ وہ صرف کتاب اللہ المنزل کو مانتے تھے، اور ان سے شرک کی نفی ان معنی سے کی ہے کہ وہ حدیثوں کو مان کر اہل حدیث کی طرح مشرک نہ تھے۔ (جل جلالہ) آپ کے الفاظ جو قابل دیدوشنید ہیں آئندہ درج ہوں گے۔ گزشتہ سطور میں پادری صاحب سے فرصت پاکر مولوی عبداللہ چکڑالوی اہل قرآن کا ذکر کیا تھا، انھوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسلام کے متعلق جو نکتہ آفرینی کی ہے وہ بہت ہی لطیف ہے۔ فرما تے ہیں: ’’اگر بالفرض ابراہیم علیہ السلام سوائے کتاب اللہ کے کسی غیراللہ کی حدیث پر چلتے تو مشرک ہوجاتے، اور حال یہ ہے کہ وہ کتاب اللہ کے ساتھ اور کسی کتاب یا قول کو شریک کرنے والے نہ تھے، اور یہ بھی تم ان کو کہہ دو کہ ابراہیم کی پیروی ہم اس طرح کرتے ہیں کہ ہم ایمان رکھتے ہیں اللہ پر یعنی قرآن مجید پر جو ہماری طرف نازل کیا گیا ہے۔ اور جوکتب ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کی اولاد کی طرف نازل کی گئی تھیں اور جو موسیٰ ، عیسیٰ کو دی گئیں اور جو تمام نبیوں کو ان کے رب کے ہاں سے موہوب ہوئیں، ہم ان میں سے کسی میں فرق نہیں جانتے، اور ان کتابوں میں جو انبیاء کی طرف اللہ کے ہاں سے اتاری گئی ہیں، اس لئے کہ ہم خاص اسی ہی کے فرماں بردار ہیں۔ اس آیت کا حاصل مطلب یہ ہے کہ ابراہیم کا طریقہ وملت صرف یہی تھا کہ آپ خاص ما انزل اللہ یعنی محض کتاب اللہ المجید ہی کی پیروی کرتے تھے اور اگر آپ ایسا نہ کرتے تو بلاریب آپ مشرک بن جاتے، لیکن آپ ہر قسم کے شرک سے پاک و مبرا تھے، اور ہم مسلمانوں کو بھی یہی حکم ہے کہ ان کے طریقہ کی پیروی کریں یعنی ما انزل اللہ ہی پر عمل کریں ورنہ ہم بھی مشرک ہو جاویں گے، جب کہ ابراہیم سلا م ٌ علیہ کی نسبت اللہ تعالیٰ فرما چکا ہے کہ اگر وہ