کتاب: برھان التفاسیر لإصلاح سلطان التفاسیر - صفحہ 419
اور بعض سے انکار ی ہوں جیسے تم حضرت مسیح اور سید الانبیاء محمد ( علیہم السلام ) سے منکر ہو اور ہم میں بفضلہ تعالیٰ یہ عیب بھی نہیں کہ ہم تمہاری طرح مطلب کے وقت خدا کے حکموں پر غیروں کو ترجیح دیں بلکہ ہم تو صرف اسی کے تابعدار ہیں پس بعد اس اظہار صریح کے اگر وہ تمہاری مانی ہوئی کتاب یعنی قرآن مجید کو مان لیں تو جان لو کہ ہدایت پر آگئے اور اگر حسب دستور قدیم اعراض کریں تو معلوم کرو کہ وے سخت ضدی ہیں اگر وے تجھ سے (اے رسول) کچھ اذیت کا قصد کریں تو پس خدا تجھ کو ان کی شرارت سے بچائے گا اس لئے کہ وہ تیرے مخالفوں کی سر گوشیاں اور باہمی مشورے سنتا ہے اور ان کے دلی عنادوں کوبھی جانتا ہے ان کا یہ بھی ایک دائو ہے کہ اپنے مذہب میں لاتے ہوئے رنگ کے چھینٹے ڈالتے ہیں اور اس کو الٰہی رنگ کہتے ہیں اور عوام لوگوں کو اس دھوکہ سے کہ آئو اس سچے رنگ سے اپنے کو رنگو دام میں لاتے ہیں سو تم ان کے جواب میں کہہ دو کہ تمہارا رنگ تو پھیکا بلکہ سرے سے کچھ بھی نہیں اصل رنگ اللہ کا ہے جو ہم نے اختیار کیا ہے۔ یعنی اس کے خالص بندے بن چکے ہیں۔ بھلا بتلائو تو اللہ سے کس کا رنگ اچھا ہے؟ تمہاری طرح ہم زبانی جمع خرچ نہیں رکھتے۔ بلکہ ہم تو دل وجان سے اللہ کے حکموں کو مانتے ہیں اور ہم اسی کی عبادت کرتے ہیں۔ اب بھی اگر یہ اہل کتاب باز نہ آئیں اور اے رسول! تیری نبوت کو اس وجہ سے جھٹلادیں کہ تو بنی اسمٰعیل سے ہے اور ان کا خیال ہے کہ نبوت خاصہ بنی اسرائیل کا ہے۔ تو تو ان سے کہہ دے کیا تم ہم سے خدا کے فضل اور بخشش کے بارے میں جھگڑتے ہو۔ کیا نبوت کو اپناہی حق جانتے ہو اور ہم کو اس سے علیحدہ ہی رکھنا چاہتے ہو۔ بھلا تم میں کون سی ترجیح ہے حالانکہ بندگی میں ہم تم سب برابر ہیں۔ اور وہ ہمارا اور تمہارا سب کا مالک ہے اور اعمال میں بھی تم کو کسی قسم کی رعایت نہیں کہ اور کی کمائی تم کو مل جائے