کتاب: برھان التفاسیر لإصلاح سلطان التفاسیر - صفحہ 418
گئی صرف زبانی جمع خرچ کرنے والوں کا ان سے کیا علاقہ ان کی کمائی اُن کو نصیب ہوگی تمہاری کمائی تم کو ہے۔ تمہیں ان کے کئے سے سوال نہ ہوگا۔ نہ ان کو تمہارے کئے کی پوچھ ، تم ان سے علٰیحدہ ، وے تم سے جدا۔ تعجب ہے کہ باوجود زبانی جمع خرچ کے یہ لوگ اپنے ہی کوہدایت پر جانتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ ہماری طرح کے یہودی[1] یا عیسائی ہو جائو اس سے ہدایت یاب ہو جائو گے گویا ان کے نزدیک سوائے یہودیت کے کوئی طریق درست نہیں تو کہہ دے کہ تمہارے زٹلیات توہم ہرگز نہ سنیں گے اور نہ ان پر عمل کریں گے بلکہ ہم تو حضرت ابراہیم یک رخ کے پیچھے چلیں گے اور اسی کی راہ ہم نے پکڑ رکھی ہے جو تمام نفسانی خواہشوں سے پاک وصاف ہو کر خدا کا بندہ ہو گیا تھا۔ اور وہ مشرک نہ تھا۔ جیسے کہ تم ہو۔ پس ہم تمہارے پیچھے چل کر مشرک بننا نہیں چاہتے ۔ تمہارے ایسا کہنے سے اگر لوگوں میں یہ مشہور کریں کہ مسلمان توریت ، انجیل کو خدا کا کلام نہیں مانتے تو تم بلند آواز سے کہہ دو کہ یہ الزام ہم پر غلط ہے سب سے پہلے ہم خدا واحد کو مانتے ہیں اوراس کتاب کو مانتے ہیں جو ہماری طرف اُتری اور اس کو بھی مانتے ہیں جو حضرت ابراہیم اور ا س کے بڑے بیٹے اسمٰعیل اورچھوٹے بیٹے اسحاق اور اس کے پوتے یعقوب اسرائیل اور اس کی اولاد علیہم السلام کی طرف اتاری گئی۔ ’’اور خاص کر اس کلام کو مانتے ہیں جو کچھ حضرت موسیٰ اور عیسیٰ کو خدا کے ہاں سے زندگی میں ملاتھا اورجو عموما سب نبیوں کو خدا کی طرف سے ملا ہم سب کو تسلیم کرتے ہیں اور بدل وجان قبول کرتے ہیں بڑی بات ہم میں یہ ہے کہ اللہ کے نبیوں میں تفریق نہیں کرتے کہ بعض کو مانیں
[1] {وَقَالُوْا کُوْنُوْا ھُوْدًا} یہود مدینہ اور نصاریٰ نجران دونوں مسلمانوں سے آکر جھگڑنے لگے اور ہر ایک اپنے مذہب کی طرف بلاتا تھا۔ ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔ [مؤلف]