کتاب: برھان التفاسیر لإصلاح سلطان التفاسیر - صفحہ 413
{ یَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَہٗ قَوْلًا} [طٰہٰ: 109] ترجمہ کرنے سے پہلے آیت موصوفہ کی ترکیب مقد م ہے ۔ {لَا تَنْفَعُ} فعل، {الشَّفَاعَۃُ} فاعل، { اِلَّا} حرف استثنا { مَنْ } موصولہ، مستثنی من المحذوف۔ تقدیر عبارت یہ ہے: ’’لا تنفع الشفاعۃ أحدا إلا من أذن لہ الرحمان‘‘ {لَہُ} ظرف متعلق اذن کے ہے۔ پس ترجمہ ہوا: ’’دار آخرت میں کسی ایک کو بھی سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کو ضرور فائدہ دے گی جس کے لیے خدائے رحمٰن اجازت دے گا۔‘‘ اس آیت نے صاف بتادیا کہ شفاعت سے نفع ہوگا اور ضرور ہوگا لیکن باذن اللہ ۔ یہی معنی ہیں ان آیات کے جن کو ہمارے مخاطب نے بغیر غوروتدبر کے نقل کردیا ہے۔ ’’بلاشبہ شفاعت کا مالک اللہ ہے۔‘‘ پس آپ کا یہ کہنا : ’’جن کا اللہ پر بھروسہ ہے ان کے لئے اللہ کی رحمت ہی شفیع ہے۔‘‘ بالکل صحیح ہے لیکن اللہ کی رحمت کا ظہور بصورتِ شفاعت اسی طریق سے ہوگا جو پیش کردہ آیت میں مذکور ہے ۔ آپ کا دوسرا فقرہ: ’’جن کا نبیوں پر بھروسہ ہے وہ انھی کو شفیع سمجھنا چاہتے ہیں تو سمجھیں۔‘‘ بظاہر غلط ہے ۔ ہاں اس میں تھوڑی سی ترمیم کردی جائے تو صحیح ہوسکتا ہے۔ وہ ترمیم یوں ہے: ’’جو نبیوں کو ’’باذن خدا‘‘ شفیع سمجھنا چاہتے ہیں وہ سمجھیں۔‘‘ اتنی ترمیم ہونے سے قرآن مجید کے موافق اور ہمارے قابل قبول ہو سکتا ہے۔ اللّٰه الموفق