کتاب: برھان التفاسیر لإصلاح سلطان التفاسیر - صفحہ 412
یہ پکارتے ہیں ان میں سے کوئی بھی مالک شفاعت نہیں اور یہ کافر اسے اچھی طرح سے سمجھتے ہیں۔ بلاشبہ شفاعت کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ (پ24:2) خدا تعالیٰ کی رحمت ہی اس کی جناب میں معذور لوگوں کی شفاعت کرتی رہتی ہے۔ کسی نے کیا اچھا کہا ہے نفس و شیطاں زد کریما راہ من رحمت باشد شفاعت خواہ من[1] ’’جن کا اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہے ان کے لیے اللہ کی رحمت ہی شفیع ہے، جن کا نبیوں پر بھروسہ ہے وہ انھی کو شفیع سمجھنا چاہتے ہیں تو سمجھیں۔ لیکن وہ خود ہی انصاف کریں: { فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ} [الأنعام: 81] (تفسیر بیان للناس، ص:719تا721‘‘) امرتسری نیچری معاصر کا جواب بغور سنیے! برہان: ہمارا بلکہ ہر مومن کا یہ اصل الاصول ہے کہ جو بات نص قرآن میں مذکور ہو اس کی تردید جائز نہیں، نہ ایسا کر نا کسی مومن بالقرآن کا کام ہوسکتا ہے۔ ہمارے خیال میں مسئلہ شفاعت جس خوبی سے قرآن شریف میں مذکور ہوا ہے، اگر اس میں ایچ پیچ نہ لگا یا جائے تو بالکل صاف اور قابل قبول ہے، ہم نص قرآنی پیش کرکے پبلک کو اور ملائکہ کو اور خدا کو دکھا نا چاہتے ہیں کہ منکرین حدیث، حدیث نبوی سے تو کھلے لفظوں میں منکر ہیں۔ قرآن شریف کو بھی اپنی مرضی کے ماتحت مانتے ہیں۔ خدا کرے ہمارے مخاطب ہماری پیش کردہ آیت کو بلا چوں و چرا مان کر ہمارا گمان غلط ثابت کردیں۔ سنیے! ارشاد خداوندی ہے:
[1] نفس اور شیطان میری راہ روکے ہوئے ہیں لیکن رحمت میری سفارشی ہوگئی ہے۔