کتاب: برھان التفاسیر لإصلاح سلطان التفاسیر - صفحہ 386
اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ وَ قَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ اِلَّا مَنْ کَانَ ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی تِلْکَ اَمَانِیُّھُمْ قُلْ ھَاتُوْا بُرْھَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ بَلٰی مَنْ اَسْلَمَ وَجْھَہٗ لِلّٰہِ وَ ھُوَ مُحْسِنٌ فَلَہٗٓ اَجْرُہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَ لَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ} [البقرۃ: 104 تا 112]
ترجمہ: اے مسلمانو! تم {رَاعِنَا} [1] مت کہاکرو۔ گو تمہاری وہ مراد نہیں جو ان کم بختوں کی ہے پھربھی کیا ضرورت ہے کہ ایسے کلمات بولو جن سے ان کی بیہودہ گوئی کا رواج ہو۔ اس لئے مناسب ہے کہ یہ چھوڑدو اور {انْظُرْنَا} کہا کرو جو اسی کے ہم معنی ہے بہتر تو یہ ہے کہ جب تم رسول کی خدمت میں آئو تو کچھ بھی نہ کہو بلکہ خاموش رہو اور سنتے رہا کرو اس لیے کہ بولتے بولتے انسان کو زیادہ گوئی کی عادت ہوجاتی ہے۔ جس کی وجہ سے کبھی نہ کبھی گستاخی کر بیٹھتا ہے جس کے سبب سے کفر تک نوبت پہنچ جاتی ہے اور کافروں کو نہایت دردناک عذاب ہوگا۔ بھلا یہ کیونکر نہ جلیں بھُنیں تمہاری تو دن بدن شوکت ہو اور یہ کتاب والے کافر اور مکہ کے مشرک ہرگز اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ کی طرف سے کچھ بھلائی تم کوملے اور
[1] {لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا} یہودی حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوتے تو اپنے بھڑکتے ہوئے غصہ سے جو شوکت اسلام کی وجہ سے ان کے دلوں میں جوش زن تھا آنجناب کو صریح لفظوں میں تو کچھ نہ کہہ سکتے پر کمینوں کی طرح ایک ایسا لفظ بولتے کہ جس سے عام مسلمان صاف معنی سمجھیں اور وہ اپنے دلی بغض کے مطابق کچھ اور ہی مراد لیں۔ چنانچہ انہوں نے {رَاعِنَا} کو اس مطلب کے لئے تجویز کیا جس کے معنی یہ ہیں کہ آپ ہماری طرف التفات فرمائیے اور اگر اس کو ذرا لمبا کر کے ’’راعینا‘‘ کہیں تو اس کے معنی ہو جاتے ہیں ’’خادم او رکمّی ہمارے‘‘ وہ اسی طرز سے کہتے پس مسلمانوں کو یہ کلمہ کہنے سے منع کیا گیا اور اس کے بجائے {انْظُرْنَا} جو اسی کی مثل دیکھنے کے معنی میں ہے مقرر ہوا تاکہ ان کی بھی عادت چھوٹ جائے۔