کتاب: برھان التفاسیر لإصلاح سلطان التفاسیر - صفحہ 378
چکے تھے کہ جو کوئی اس علم کو حاصل کرے اس کو آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اور اپنے نفسوں کواس کے عوض عذاب میں پھنسا کر جو کچھ وہ حاصل کرتے تھے وہ برا تھا کاش وہ علم رکھتے یعنی علم پر عمل کرتے، علم رکھ کر عمل نہ کرنے والا فی الحقیقت بے علم ہے اور اگر وہ بجائے تعلیم سحر کے پختہ ایماندار بنتے اور یعنی مناکیر اور مناہی سے بچتے رہتے تو اس کا بدلہ جو اللہ کے ہاں سے ان کو ملتا وہ سب سے اچھا ہوتا کاش وہ جانتے ہوتے۔
پادری صاحب نے اس رکوع کے ترجمے میں کئی ایک غلطیاں کی ہیں۔ ترجمہ ان کا حاشیہ پر ہے[1] اور اغلاط درج ذیل ہیں:
[1] ترجمہ پادری صاحب: ’’آپ ان سے کہئے کہ جو کوئی دشمن ہے جبرئیل کا سو اس نے اتارا ہے قرآن کوآپ کے دل پر خدا کے حکم سے جو تصدیق کرتا ہے آسمانی کتابوں کی جو اس کے سامنے موجود ہیں۔ اور راستہ بتانے والی اور خوشخبری دینے والی ہے ایمان داروں کے لئے (97)جو شخص خدا کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کے رسولوں کا اور جبرئیل اور میکائیل کا دشمن ہے، سو اللہ کافروں کا دشمن ہے۔ (98)اور تحقیق ہم نے اتاری ہیں آپ کی طرف واضح دلائل جن سے کوئی انکار نہیں کرتا ، مگر جو فاسق ہو۔ (99)جب کبھی انہوں نے کوئی عہد باندھا تو انہی میں سے کسی نہ کسی فریق نے اس کو پھینک دیا، بلکہ ان میں سے اکثر ایسے ہیں جو ایمان نہیں لاتے۔ (100) اور جب ان کے پاس خدا کی طرف سے کوئی رسول آیا جو ان کی کتابوں کی جو ان کے پاس ہیں تصدیق کرتا ہے تو ان اہل کتاب میں سے کسی نہ کسی فریق نے خدا کی کتاب کو پسِ پشت ڈال دیا اس طرح کہ گویا جانتے ہی نہیں ہیں۔(101) اور پیروی کرتے تھے ان باتوں کی جن کا شیاطین سلیمان کی سلطنت میں چرچا کرتے تھے۔ حالانکہ سلیمان نے کفر نہیں کیا بلکہ شیاطین نے کفر کیا جو لوگوں کو جادو گری سکھاتے تھے، اور جو علم ہاروت اور ماروت دو فرشتوں پر بابل میں نازل ہوا، وہ کسی کو نہیں سکھاتے تھے تاوقتیکہ یہ نہ کہتے کہ ہم فتنہ ہیں۔ سو تو کافر مت ہو۔ سو ان میں سے بعضے لوگ ان دونوں میں سے ایسی سحر کی باتیں سیکھنے لگے جو شوہر اور اس کی بیوی میں جدائی ڈالتی تھیں۔ حالانکہ یہ جادو گر کسی کو جادو کے ذریعہ ضرر نہیں پہنچاسکتے تھے۔ مگر خدا کے اذن سے اور ایسی باتیں سیکھ لیتے ہیں جو خود ان کو ضرر پہنچاتی ہیں اور ان کو نفع نہیں پہنچاتی ہیں۔ اور خود یہودی جانتے ہیں کہ جو شخص جادوگری اختیار کرے، قیامت میں ان کے لیے بہتری نہیں ہے، او رحقیقت میں بہت بری ہے، وہ چیز جس کے لیے وہ جان دے رہے ہیں ۔ کاش ان کو اتنی سمجھ ہوتی۔ (102) اور اگر وہ لوگ ایمانداری او رپرہیزگاری اختیار کرتے تو خدا کے پاس ان کے لئے بہتر معاوضہ تھا۔ کاش یہ اتنی عقل رکھتے۔‘‘( سلطان التفاسیر ص:417، 418)