کتاب: برھان التفاسیر لإصلاح سلطان التفاسیر - صفحہ 291
ہوگئی ہے کہ جدید فرقوں کی جتنی تفسیریں اردو زبان میں چھپ چکی ہیں ساتھ ساتھ ان سب پر نظر ہوتی جائے تو بہت اچھا ہے۔ جدید الطبع مروجہ تفسیرات یہ ہیں:
1تفسیر احمدی علی گڈھی۔ 2تفسیرات احمدیہ قادیانیہ۔[1] 3بیان القرآن از مولوی محمد علی صاحب لاہوری احمدی۔[2] 4بیان للناس از مولوی احمد دین صاحب امرتسری اہل قرآن۔[3] 5ترجمہ قرآن از مولوی عبداللہ چکڑالوی اہل قرآن۔
سرسید احمد خان مرحوم علی گڈھی کی تفسیر کا ذکر ہم تفسیر ثنائی میں مفصل کر چکے ہیں۔ تاہم یہاں بھی بمقدار قلیل کسی خاص غرض سے اس کا ذکر آتا رہے گا۔ بحولہ و قوتہ
نوٹ: سورہ بقرہ کے چھٹے رکوع کے الفاظ مع ترجمہ و تشریح ہم درج کر چکے ہیں اس کے بعد پادری صاحب سے مکاملہ جاری ہوا ہے۔
اس سلسلہ کا ذکر پہلے ہوچکا ہے کہ پادری سلطان محمد پال کے جواب میں یہ سلسلہ جاری ہوا ہے۔
پادری صاحب نے اپنی تفسیر کے صفحہ (153) سے صفحہ (180) تک قرآن اور کتب سابقہ کی عبارات متعلقہ قصہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نقل کی ہیں۔ اتنے صفحات میں پادری صاحب سے بڑا تساہل اور غلطی یہ ہوئی ہے کہ آپ نے قرآنی کالم میں قرآنی
[1] مرزا صاحب قادیانی یا حکیم نورالدین میاں محمود خلیفہ قادیان نے مستقل تفسیر کوئی نہیں لکھی۔ البتہ ان کے درس قرآن کے نوٹ ملتے ہیں۔ مباحث کے ذیل میں کسی آیت کا ترجمہ یا تفسیر جو لکھی ہے اس کا ذکر ہوتا رہے گا۔ ان شاء اللہ۔ [مؤلف]
[2] یہ صاحب اگر چہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے مرید ہونے کی وجہ سے احمدی ہیں مگر تفسیر اور بہت سے مسائل اعتقاد میں سر سید احمد خان سے بھی بہت مستفیض ہیں۔ [مؤلف]
[3] یہ صاحب با قاعدہ علوم عربیہ نہیں پڑھے، انٹرنس پاس کر کے اسلامیہ اسکول امرتسر میں مڈل درجے میں ماسٹر ہوگئے تھے، سر سید مرحوم کی تصنیفات دیکھا کرتے تھے۔ چنانچہ انہی کا رنگ لے کر اسی قسم کے خیالات کو تفسیر ’’بیان للناس‘‘ میں بھر دیا ہے۔ آپ حجیت حدیث کے منکر ہیں اس لئے ہم ان کو اہل قرآن کی صنف جانتے ہیں۔ [مؤلف]