کتاب: بیماریاں اور ان کا علاج مع طب نبوی - صفحہ 76
٭ چکو ترہ ( Grapefruit) :۔ اس میں نمکیات اور وٹامن سی شامل ہیں روح کو فرحت اور معدہ کو طاقت اور بھوک بڑھاتا ہے۔ گرمی دور کرتا ہے ۔ مقوی قلب ہے ، بلڈ پریشر اور کولسٹرول کواعتدال پر لاتا ہے۔ چہرہ کا رنگ نکھارتا ہے۔ تھکان، گرمی زکام اور جریان کا خاتمہ کرتا ہے۔ جن لوگوں کاگلا، پھیپھڑے یا جگر خراب ہو وہ اس پھل کو استعمال نہ کریں۔ اگر مرغن کھانے نہ کھائے جائیں تو موٹاپا کم کرتا ہے ۔ ٭ چلغوزہ :۔ جگر، گردہ اور قوت باہ کو طاقت پہنچاتا ہے اور منی کو گاڑھا کرتا لیکن زیادہ مقدار میں استعمال نہ کریں۔ زیادہ سے زیادہ 11 دانے روزانہ کھائیں۔ اِنْ شَائَ اللّٰہُ الْعَزِیْزُ فا ئدہ ہوگا۔ یاد رکھیں کسی اچھی چیز کی زیادتی بھی نقصان دہ ہوتی ہے۔ ٭ چھوارہ :۔ بدن کو غذائیت اور طاقت بخشتا ہے۔ 5 موٹے چھواروں کو دودھ میں اُبال کر کھائیں اور دودھ پی لیں۔ چند ہفتے کے استعمال سے بدن میں نئی قوت پیدا ہوگی نیز قوت باہ میں بھی اضافہ ہو گا۔ اِنْ شَائَ اللّٰہُ الْعَزِیْزُ ٭ خربوزہ :۔ یرقان، پتھری اور قبض کو ختم کرتا اور رکے ہوئے پیشاب کوجاری کرتا ہے۔ عورت کے دودھ کو بڑھاتا ہے۔ دماغ کو طاقت دیتا ہے۔ ُسدّوں کو کھولتا ہے۔ گردہ، مثانہ اورآنتوں کو صاف کرتا ہے۔ مادۂ تولید میں اضافہ کرتا ہے۔اسے نہار منہ نہ کھائیں اور کھانے کے بعد فوراً پانی نہ پئیں۔ ٭ خوبانی :۔ جسم کو طاقت دیتی ہے۔ قبض کشا ہے۔ آنتوں کو صاف، غذا کو ہضم اور خون میں اضافہ کرتی ہے۔ تازہ خوبانی کھانے سے یرقان کی شکایت دور ہو جاتی ہے۔ خشک خوبانی میں بھی وہی تمام خواص ہیں جو تازہ میں ہوتے ہیں۔ جب تازہ خوبانی دستیاب نہ ہو تو 8 تا 10 خشک خوبانیاں رات کو پانی میں بھگو کر صبح کھا لیں۔ ٭ سردا :۔ مفرح ہے۔ دل، دماغ، گردہ اور مثانہ کو طاقت دیتا ہے۔ اس کے استعمال سے پیشاب زیادہ آتا ہے اور پیشاب کی جلن ختم ہو جاتی ہے۔ ٭ سیب :۔ اس میں دوسرے پھلوں کی نسبت فاسفورس اور فولاد زیادہ مقدار میں