کتاب: بیماریاں اور ان کا علاج مع طب نبوی - صفحہ 256
بھی ہے کہ پنڈلی کو انگوٹھے سے دبائیں اگر گوشت واپس اپنی جگہ آجائے تو ٹھیک ہے اگر گڑھا پڑ جائے تو سمجھ لیں اس جگہ سے روح نکل چکی ہے اسی و جہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں سے یہ بھی دعا ہے :۔ ’’ یا اللہ کریم آپ روح کو پٹھوں، ہڈیوں اور انگلیوں میں سے نکالتے ہیں۔ مجھ پر موت کی سختی آسان کردے ۔‘‘ 1. مریض کو (آخری وقت تک) تسلی دیتے رہیں ، صبر کی تلقین کریں اور لمبی عمر کی امید دلائیں (ا بن ما جہ)۔ مریض کیلئے تھو ڑی اونچی آواز سے یہ دعا کریں : لَابَاْسَ طَھُوْرٌ اِنْ شَـائَ اللّٰہُ (بخاری) (ترجمہ)’’گھبرائیے نہیں یہ بیماری(آپکو) اِنْ شَائَ اللّٰہُ تَعَالٰی پاک کر دیگی۔ ‘‘ 2. مریض کو اسکے نیک کام یاد دلائیں تاکہ اسے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی امید رہے اور آپ بھی اسکے لئے مغفرت کی دعا کریں کیونکہ اس وقت فرشتے آمین کہتے ہیں (مسلم) 3. اگر کوئی کافر یا مشرک مرنے کے قریب ہو تو اسے توبہ کرنے اور اسلام لانے کی تلقین کریں۔(مسند احمد)  4. پردہ کا خیال رکھتے ہوئے عورتیں کسی غیر محرم کی عیادت کیلئے جا سکتی ہیں(بخاری) 5. عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے سینہ اور ٹھوڑی کے درمیان فوت ہوئے ’’بوقت وفات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف دیکھنے کے بعد میں نے کبھی کسی کے بارے میں موت کی تکلیف کم ہونے کا تصور تک نہیں کیا۔‘‘ (بخاری) 6. ’’تم مرنے والے کو لَآاِلٰـــہَ اِ لَّا اللّٰہُ کی تلقین کیا کرو۔‘‘ (مسلم) یہ تلقین حکمت سے کریں ۔ مریض سے یہ نہ کہیں کہ کلمہ پڑھو۔ تکلیف کی و جہ سے اگر اس نے انکار کر دیا توآپ اس کو بھی گناہ گار کریں گے اور آپ بھی اس گناہ میں شریک ہوسکتے ہیں بلکہ سلام و دعا کے بعد اسطرح کہیں :۔ ’’کیا آپ گھبراہٹ محسوس کر رہے ہیں؟‘‘ عام طور پر مریض ’’ہاں‘‘ کہتاہے۔ آپ کہیں لَآاِلٰـــہَ اِ لَّا اللّٰہُ پڑھنے سے گھبراہٹ دور ہوتی ہے اور تکلیف کم ہو جاتی ہے اور یہ بہترین ذکر بھی ہے۔ آئیے ہم سب مل کر پڑھیں۔ پھر تمام حاضرین یا چند لوگ ہلکی آواز میں کلمہ پڑھیں۔ اس طرح اِنْ شَائَ اللّٰہُ تَعَالٰیمریض