کتاب: بیماریاں اور ان کا علاج مع طب نبوی - صفحہ 253
موت سے پہلے،موت کے وقت اورموت کے بعد کے اعمال ٭ موت سے پہلے :۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :۔ 1. ’’ جو شخص اللہ رحیم سے ملاقات کو محبوب رکھتا ہے اللہ رحیم بھی اسکی ملاقات کو محبوب رکھتے ہیں، جو شخص اللہ ربُّ العزّت سے ملاقات کرنا پسند نہیں کرتا تو اللہ ربُّ العزّت بھی اس سے ملاقات کرنا پسند نہیں فرماتے۔ ‘‘(بخاری، مسلم) 2. ’’2 چیزیں انسان کو نا پسندہیں، پہلی موت، حالانکہ موت مومن کیلئے فتنوں سے نجات کا سبب ہے، دوسری مال کی کمی حالانکہ مال کی کمی (قیامت کے دن) آسان حساب وکتاب کا سبب بنے گی۔‘‘ (احمد) 3. ’’کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے اگر کوئی نیک آدمی ہے تو اپنی نیکیوں میں اضافہ کرے گا اور اگر گناہ گار ہے تو ممکن ہے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لے۔‘‘(بخاری) 4. ’’تم میں سے کوئی بھی آدمی تکلیف یا مصیبت کی و جہ سے موت کی آرزو نہ کرے۔‘‘ (بخاری) ’’ اسلام میں صرف شہادت فی سبیل اللہ کی تمنا کرنے کی اجازت ہے۔‘‘(بخاری) ﴿ مزید تفصیل کیلئے پڑھئیے تفسیر (سورہ ٔ اٰ ل عمران 3 : آیت 143 ) اگر موت کے بغیر کوئی چارہ کار نظر نہ آئے تو یوں کہنا چاہئیے:۔ اَلَلّٰھُمَّ اَحْیِــنِیْ ما کَانَتِ الْحَیَاۃُ خَیْرًا لِّـیْ وَ تَوَ فَّنِـیْ اِذَ ا کَانَتِ الْوَ فَاۃُ خَیْرًا لِّـی ْ (ترجمہ)’’یا اﷲ،مجھے اسوقت تک زندہ رکھیئے جب تک میرے زندہ رہنے میں بھلائی ہے اور مجھے اسوقت موت دیجئے جب موت میں میرے لئے بھلائی ہو۔‘‘(بخاری) ٭ خاتمہ ایمان پرموت کیلئے یہ دعا مانگیں :۔ اَللّٰھُمَّ لَقِّنِـیْ حُجَّۃَ الْاِ یْمَانِ عِنْدَ الْمَمَاتِ (ترجمہ )’’اے اللہ مجھے موت کے وقت ایمان کی حجت سکھا نا۔ ‘‘