کتاب: بیماریاں اور ان کا علاج مع طب نبوی - صفحہ 110
لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ﴿٣﴾ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ ﴿٤﴾ 16۔ بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ﴿١﴾ مِن شَرِّ مَا خَلَقَ ﴿٢﴾ وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ ﴿٣﴾ وَمِن شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ ﴿٤﴾ وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ﴿٥﴾ 17۔ بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ﴿١﴾ مَلِكِ النَّاسِ ﴿٢﴾ إِلَـٰهِ النَّاسِ ﴿٣﴾ اسکی کوئی اولاد نہیں اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ کوئی اس کے برابر کا ہے۔‘‘(سورۂ اخلاص112:) 16۔ (ترجمہ )’’اﷲ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بڑے مہربان نہایت رحم والے ہیں۔ آپ (رب کی پناہ مانگنے کے لئے) کہئے کہ میں صبح کے مالک کی پناہ لیتا ہوں تمام مخلوقات کے شر سے اور (بالخصوص) اندھیری رات کے شر سے جب وہ رات چھاجائے (اور رات میں شر کااحتمال زیادہ ہوتاہے)اور (بالخصوص گنڈے کی) گِرہوں پر پڑھ پڑھ کر پھونکنے والیوں کے شر سے اور حسد کرنیوالے کے شر سے جب وہ حسد کرنے لگے۔‘‘(سورۂ فلق113) 17۔ (ترجمہ)’’ اﷲ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بڑے مہربان نہایت رحم والے ہیں۔ آپ کہئے (جس طرح کہ سورئہ فلق میں گزرا) کہ میں انسانوں کے مالک، انسانوں کے بادشاہ انسانوں کے معبود کی پناہ لیتا ہوں،