کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 86
مُسْلِمٌ ذَبَحَ شَاۃَ الْمَجُوسِ لِبَیْتِ نَارِہِمْ، أَوِ الْکَافِرِ، لِآلِہَتِہِمْ، تُؤْکَلُ، لِأَنَّہٗ سَمَّی اللّٰہَ تَعَالٰی، وَیُکْرَہُ لِلْمُسْلِمِ ۔ ’’مسلمان نے مجوسی کی آتش کدہ کے لئے خاص کردہ بکری یا کافر کی معبودوں کے لئے مخصوص بکری ذبح کی، وہ حلال ہے، کیونکہ اس مسلمان نے اللہ کا نام لیا ہے، مگر یہ کام مسلمان کے لیے مکروہ (ناپسندیدہ) ہے۔‘‘ (فتاویٰ عالمگیری : 3/115) شرعی نصوص کی حرام کردہ چیزیں حلال نہیں ہو سکتی، اس پر اللہ کا نام لینا سود خوروں کے مقولے ہٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّي کی قبیل سے ہے۔ 2.ایک اور مسئلہ ملاحظہ فرمائیں : فِي فَتَاوٰی أَہْلِ سَمَرْقَنْدَ : إِذَا ذَبَحَ کَلْبَہٗ، وَبَاعَ لَحْمَہٗ جَازَ، وَکَذَا إِذَا ذَبَحَ حِمَارَہٗ، وَبَاعَ لَحْمَہٗ، وَہٰذَا فَصْلٌ اخْتَلَفَ فِیہِ الْمَشَایِخُ فِیہِ، بِنَائً عَلَی اخْتِلَافِہِمْ فِي طَہَارَۃِ ہٰذَا اللَّحْمِ بَعْدَ الذَّبْحِ، وَاخْتِیَارُ الصَّدْرِ الشَّہِیدِ عَلٰی طَہَارَتِہٖ ۔ ’’فتاوی اہل سمرقند میں ہے کہ جب اپنا کتا ذبح کرے اور اس کا گوشت فروخت کرے، تو جائز ہے۔ اسی طرح جب اپنا گدھا ذبح کرے اور اس کا گوشت فروخت کرے، (توجائز ہے)۔ اس مسئلے میں مشایخ کا اختلاف ہے اور اس کی وجہ ذبح ہونے کے بعد اس گوشت کے پاک ہونے میں اختلاف ہے۔ صدر شہید نے اس گوشت کے پاک ہونے کو اختیار کیا ہے۔‘‘ (فتاویٰ عالمگیری : 3/115)