کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 84
کی جگہ بعض مسلمان اور ’’بتوں ‘‘ کی جگہ قبروں وغیرہ کے الفاظ لگا کر لکھ رہے ہیں اور فیصلہ اربابِ فکر و نظر پر چھوڑتے ہیں کہ وہ خود ہی انصاف کر دیں، ملاحظہ فرمائیں : ’’غیر خدا کو راضی کرنے کے لیے صرف خون بہانے کی نیت سے ذبح کرنا کہ اس میں گوشت مقصود نہ ہو،جیسے کہ بعض مسلمان قبروں ،آستانوں اور اولیاء اللہ کی بھینٹ چڑھاتے ہیں کہ اس سے صرف خون دے کر اصحاب قبور کو راضی کرنا مقصود ہے۔یہ جانور اگر بسم اللہ پڑھ کر بھی ذبح کیا جاوے، جب بھی حرام ہے۔‘‘ رہا مفتی صاحب کا یہ شرط ذکر کرنا : ’’بشرطیکہ ذبح کرنے والے کی نیت بھینٹ کی ہو، نہ کہ ذبح کروانے والے کی۔‘‘ تو قرآن و حدیث اور آثار ِصحابہ و تابعین میں اس شرط کا ذکر نہیں ۔سلف صالحین اور ائمہ ہُدیٰ میں سے کوئی بھی ان کا ہم خیال نہیں ۔ بعضے مسلمان جب بزرگوں کے نام پر جانور ذبح کرتے ہیں توکیا ان کا مقصود گوشت کھانا ہوتا ہے؟ کیا قبروں پر جانور اس لئے ذبح کئے جاتے ہیں تاکہ گوشت کھایا جائے۔ان کا جواب یقینا نفی میں ہے۔ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ؛ دَخَلَ رَجُلٌ الْجَنَّۃَ فِي ذُبَابٍ، وَدَخَلَ آخَرُ النَّارَ فِي ذُبَابٍ، قَالُوا : وَکَیْفَ ذَاکَ؟ قَالَ : مَرَّ رَجُلَانِ مِمَّنْ کَانَ قَبْلَکُمْ عَلٰی نَاسٍ مَّعَہُمْ صَنَمٌ لَّا یَمُرُّ بِہِمْ أَحَدٌ إِلَّا قَرَّبَ لِصَنَمِہِمْ، فَقَالُوا