کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 83
حلت وحرمت کا اختیار اللہ کے پاس ہے، کسی انسان کو اسے اپنے ہاتھ میں رکھنے کی اجازت نہیں ہے،سوال یہ ہے کہ ولیمہ کے جانور کی نسبت تو شریعت سے ثابت ہے،لہٰذا ولیمے کا جانور شرعاً حلال ہوا،لیکن گیارہویں کا بکرا یا غوث پاک کی گائے والی نسبت کس شریعت سے ثابت ہے؟ظاہر ہے یہ نسبت شریعت ِاسلامیہ سے ثابت ہو گی تو ہی ایسا جانور شرعاً حلال ہو گا۔ کسی صحابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی گائے چھوڑی یا ذبح کی؟ یقینا نہیں۔ کہاں غیراللہ کی نذر ونیاز کے لیے ان سے جانور منسوب کرنے کا شرکیہ عمل اور کہاں ولیمہ جیسے مسنون عمل کے لیے منسوب جانور۔ان میں تو بہت سارا بعد ہے بھیا! 3.گوشت کھانا یا نہ کھانا مؤثر نہیں : غیراللہ کے لیے ذبح کیے جانے والے جانور کا گوشت کھانے کا ارادہ ہو یا نہ ہو، اسے کھایا جائے یا نہ کھایا جائے، وہ حرام ہی ہوتا ہے۔ مفتی صاحب لکھتے ہیں : ’’غیرخدا کو راضی کرنے کے لیے صرف خون بہانے کی نیت سے ذبح کرنا کہ اس میں گوشت مقصود نہ ہو،جیسے کہ ہندو لوگ بتوں یا دیوی کی بھینٹ چڑھاتے ہیں کہ اس سے صرف خون دے کر بتوں کو راضی کرنا مقصود ہے۔یہ جانور اگر بسم اللہ کہہ کر بھی ذبح کیا جاوے،جب بھی حرام ہے، بشرطیکہ ذبح کرنے والے کی نیت بھینٹ کی ہو،نہ کہ ذبح کرانے والے کی۔ان فقہی عبارات سے یہ ہی مراد ہے۔‘‘ (جاء الحق : 1/365-364) ہم اس عبارت پر کوئی تبصرہ کرنے کی بجائے، اسی عبارت کو حسب ِحال ’’ہندو‘‘