کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 82
احمد یار خان نعیمی صاحب لکھتے ہیں :
’’جب [أُہِلَّ]کے لغوی معنی مراد ہوئے، یعنی جانور پر اس کی زندگی میں یا بوقت ِذبح غیر اللہ کا نام پکارنا جانور کو حرام کر دیتا ہے تو لازم آیا کہ جانور کے سوا دوسری اشیاء بھی غیراللہ کی طرف نسبت کرنے سے حرام ہو جاویں ،کیونکہ قرآن میں آتا ہے :﴿وَمَا أُہِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ﴾’’ہر وہ چیز جو کہ غیراللہ کے نام پر پکاری جائے۔‘ ’ما‘میں جانور کی قید نہیں ۔پھر خواہ تقرب کی نیت سے پکارا یا کسی اور نیت سے بہرحال حرمت آنی چاہیے، تو زید کا بکرا، عمرو کی بھینس،زید کے آم،بکر کے پھل،فلاں کی بیوی۔۔۔‘‘
(جاء الحق : 1/363)
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا ہے کہ غیر اللہ کے لیے جانور ذبح کرنا باعثِ لعنت ہے،آخراس کا کوئی مصداق بھی ہے یا نہیں ؟ظاہر ہے جو جانور غیراللہ کے لیے نذر نیاز کی نیت سے منسوب کر کے ذبح کیا جائے گا،وہی حرام ہو گا اور یہی نسبت شرک کی ہو گی، اس کے علاوہ باقی ساری نسبتیں جائز ہوں گی۔
صاف ظاہر ہے کہ جو جانور یا چیزیں اصحاب ِقبور اور اولیاء اللہ کی طرف منسوب ہوتی ہیں ،وہ ان کی نذر و نیاز پر منسوب ہوتی ہیں ۔اگر کوئی کہے کہ یہ غوث پاک کی گائے ہے یا یہ شیخ سدو کا بکرا ہے تو یہ غیر اللہ کے لیے نذر ونیاز ہی تو ہے۔
مفتی صاحب لکھتے ہیں :
’’گیارہویں کا بکرا یا غوث پاک کی گائے وغیرہ،یہ شرعاً حلال ہے، جیسا کہ ولیمہ کا جانور۔‘‘ (جاء الحق : 1/359-358)