کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 81
اسے غیراللہ کے لیے مقرر کرنے والے کا مقصد گوشت نہ تھا،بلکہ غیر اللہ کا تقرب تھا۔ احمد یار خان نعیمی صاحب لکھتے ہیں : ’’اگر کسی نے جانور میت کے نام پر پالا،بعد میں اس سے تائب ہو گیا اور خالص نیت سے اس کو ذبح کیا تو یہ بالاتفاق حلال ہے،حالانکہ [أُہِلَّ] میں تو یہ بھی داخل ہو گیا۔ اگر ایک بار بھی غیر اللہ کا نام اس پر بول دیا [مَا أُہِلَّ]کی حد میں آ گیا۔ اب ماننا پڑا کہ وقت ذبح اللہ کا نام پکارنا معتبر ہے، نہ کہ قبل کا۔‘‘ (جاء الحق : 1/364-363) جس وجہ سے اس حلال جانور کا کھانا حرام ہوا تھا، جب وہ وجہ ہی ختم ہو گئی تو اس کا کھانا جائز ہو گیا۔ جب ایک شخص نے اپنے دل سے غیر اللہ کی نذر ونیاز کی نیت ہی ختم کر دی تو وہ جانور غیراللہ سے منسوب رہا ہی نہیں ۔اس سے وقت ِذبح کی قید ثابت نہیں ہو سکتی۔ 2.نذر و نیاز والی نسبت شرک ہے : کسی چیز کو اولیاء اللہ کی طرف منسوب کیا جائے تو یہ نسبت نذر و نیاز کی ہو گی،جو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے لیے کرنا شرک، حرام اور ناجائز ہے۔اس کے برعکس کوئی جانور اپنے مالک کی طرف منسوب ہو تو یہ نسبت نذر ونیاز کی نہیں بلکہ ملکیتی ہے، اسی طرح اگر اسے کسی موقع کے ساتھ منسوب کر دیا جائے، مثلاً عید کا بکرا، تو یہ نسبت اللہ تعالیٰ کے لیے نذر و نیاز کی ہے،جو کہ عین عبادت ہے اور ولیمے کی گائے، وغیرہ، یہ نسبت غیراللہ کے لیے نذر ونیاز کی نہیں ۔اتنی سی بات بعض لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی۔