کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 80
’’بزرگوں کے لیے جو نذریں حیوانات کی مانتے ہیں اور ان کو قبروں پر لے جا کر ذبح کرتے ہیں ، فقہی روایات نے اس عمل کو شرک میں داخل کیا ہے۔‘‘ (مکتوبات امام ربانی، ص 73، مکتوب نمبر 41، دفتر 3) علامہ شوکانی رحمہ اللہ (1250ھ)اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں : اَلْمُرَادُ ہُنَا مَا ذُکِرَ عَلَیْہِ اسْمُ غَیْرِ اللّٰہِ، کَاللَّاتِ، وَالْعُزّٰی، إِذَا کَانَ الذَّبَّاحُ وَثَنِیًّا، وَالنَّارِ، إِذَا کَانَ الذَّابِحُ مَجُوسِیًّا، وَلَا خِلَافَ فِي تَحْرِیمِ ہٰذَا وَأَمْثَالِہٖ، وَمِثْلُہٗ مَا یَقَعُ مِنَ الْمُعْتَقِدِینَ لِلْـأَمْوَاتِ، مِنَ الذَّبْحِ عَلٰی قُبُورِہِمْ، فَإِنَّہٗ مِمَّا أُہِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ، وَلَا فَرْقَ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ الذَّبْحِ لِلْوَثَنِ ۔ ’’اس آیت کریمہ میں وہ جانور مراد ہے، جس پر غیراللہ کا نام لیا جائے، جیسا کہ اگر ذبح کرنے والا بت پرست ہو تو وہ لات و عزی کا نام لے گا اور اگر مجوسی ہو تو آگ کا۔ اس طرح کے جانوروں کی حرمت میں کوئی اختلاف نہیں ۔ مردہ پرستوں کی طرف سے قبروں پر جو جانور ذبح کیے جاتے ہیں ، وہ بھی اسی طرح حرام ہیں ،کیونکہ ان پر بھی غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہوتا ہے۔ قبروں پر اور بتوں کے استہانوں پر جانور ذبح کرنے میں کوئی فرق نہیں ۔‘‘ (فتح القدیر : 1/196) معلوم ہوا کہ جو جانور بتوں ، دیویوں ، دیوتاؤں ، آستانوں ، قبروں اور اولیاء اللہ کے لیے نامزد ہو گیا،اسے بسم اللہ پڑھ کر ذبح کیاجائے تب بھی حرام ہی رہتا ہے،کیونکہ