کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 79
لیے ذبح کیا جائے۔اہلال کا اصل معنی یہ ہے کہ ذبح کرنے والا اس ہستی کا بلند آواز سے ذکر کرے،جس کے لیے جانور ذبح کیا جا رہا ہو۔‘‘ (ہُدی السّاري، ص 202) کتب احناف میں لکھاہے : ذَبْحٌ لِّقُدُومِ الْـأَمِیرِ، وَنَحْوِہٖ، کَوَاحِدٍ مِّنَ الْعُظَمَائِ، یَحْرُمُ، لِـأَنَّہٗ أُہِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ، وَلَوْ ذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ تَعَالٰی ۔ ’’امیر یا اس طرح کے کسی بڑے کی آمد پر جانور ذبح کرنا حرام ہے،کیونکہ اس پر غیر اللہ کا نام پکارا گیا ہے،اگرچہ اس پر (بوقت ِذبح)اللہ تعالیٰ کا نام ذکر کیا گیا ہو۔‘‘ (الدّر المُختار للحَصکفي : 2/320، ردّ المُحتار لابن عابدین : 6/195، مجموعۃ الفتاویٰ لعبد الحي اللکنوي الحنفي : 2/306، 3/223) معلوم ہوا کہ غیر اللہ کا تقرب مقصود ہو، تو ذبح کیا گیا جانور حرام ہوتا ہے،خواہ ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام نہ پکارا جائے،بلکہ اسے اللہ کا نام لے کر ذبح کیا جائے۔ ان عبارتوں سے اہلال کا معنی واضح ہو جاتا ہے، یعنی وہ جانور حرام ہے، جس پر تعظیم غیراللہ کی نیت ہو، وقت ذبح کی کوئی قید نہیں ۔ شاہ عبد العزیز دہلوی بن شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ (1239ھ)لکھتے ہیں : ’’اگر یہ نیت ہو کہ غیر اللہ کا تقرب حاصل ہو، تو اگرچہ ذبح کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لے کر ذبح کریں ، تب بھی وہ ذبیحہ حرام ہو گا۔‘‘ (فتاویٰ عزیزیہ : 47/1) احمد سرہندی،الملقب بہ ’’مجدد الف ثانی‘‘ (1034ھ) فرماتے ہیں :