کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 78
کے لیے ذبح کیا جائے، مثلاً کہا جائے کہ یہ جانور فلاں کے لیے ذبح کیا گیا ہے۔جب مقصد یہ ہو تو زبان سے ادا کرنے یا نہ کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔اس کی حرمت اس جانور کی حرمت سے زیادہ واضح ہے جسے گوشت کھانے کی نیت سے ذبح کیا جائے،لیکن ذبح کرتے وقت اس پر مسیح کا نام لیا جائے۔…جب مسیح یا کسی ستارے کا نام لے کر ذبح کیا گیا جانور حرام ہے، تو وہ جانور بالاولیٰ حرام ہے جس کے بارے میں کہہ دیا جائے کہ یہ مسیح یا کسی ستارے کے لیے ہے یا ایسی نیت کر لی جائے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی بات کمزور ہے جو کہتے ہیں کہ غیر اللہ کا نام لے کر ذبح کیا گیا جانور تو حرام ہے، لیکن غیر اللہ کے لیے ذبح کیا گیا جانور حرام نہیں ۔…اس لیے جو جانور غیر اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے ذبح کیا جائے،وہ حرام ہے،اگرچہ اسے ذبح کرتے وقت اللہ ہی کا نام لیا جائے۔جیسا کہ اس اُمت کے منافقوں کا ایک گروہ کرتا ہے،یہ لوگ اولیاء اللہ یا ستاروں کا تقرب حاصل کرنے کے لیے جانور ذبح کرتے ہیں اور عطریات وغیرہ کے ذریعے ان کی نذریں مانتے ہیں ۔‘‘
(اقتضاء الصّراط المستقیم لمخالفۃ أصحاب الجحیم : 2/64)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں :
﴿وَمَا أُہِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ﴾، أَيْ مَا ذُبِحَ لِغَیْرِہٖ، وَأَصْلُہٗ رَفْعُ الذَّابِحِ صَوتَہٗ بِذِکْرِہٖ مَنْ ذُبِحَ لَہٗ ۔
’’اس فرمانِ باری تعالیٰ سے مراد وہ جانور ہے، جو اللہ کے علاوہ کسی اور کے