کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 77
اس امت کے قبرپرست اپنی قبرپرستی کے لیے حیلہ کرتے ہوئے اولیا کی نذر کیے گئے جانور کو ظاہری طور پر اللہ کے نام پر ذبح کر دیتے ہیں ،لیکن در حقیقت یہ جانور اسی مردہ ولی کے نام پر ذبح ہوتا ہے۔ یہ لوگ اگرچہ ظاہری طور پر زبان سے اس ولی کا نام نہیں لیتے،لیکن ان کے دلوں میں اس جانور کو ذبح کرنے سے پہلے،ذبح کرتے وقت اور ذبح کرنے کے بعد اسی کا ذکر ہوتا ہے۔ان کا اس جانور کو میت کی نذر کرنا،دل میں جانور کو اس میت سے منسوب کرنا،جانور کا نذرانہ پیش کر کے اس ولی کے تقرب کے حصول کی کوشش اور اس سے مصائب دُور کرنے اور آسائشوں کو قریب لانے کی فریاد کرنا، یہ سب چیزیں اس بات کی واضح دلیل ہیں ۔ معلوم ہوا کہ جب جانور کو غیر اللہ کی نذر کیا گیا ہو، اس وقت زبانی طور پر اللہ تعالیٰ کا نام ذکر کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اللہ کا نام لے کر ذبح کرنا تو قبرپرستی کا ایک حیلہ ہے،جو انہیں شرک کرنے اور حرام کھانے سے بری نہیں کر سکتا، کیونکہ اعتبار تو نیت کا ہے نہ کہ زبانی اللہ کا نام لے کر ذبح کرنے کا۔ ایسی نذر ماننے والا مشرک ہے اور ایسا نذر کیا گیا جانور حرام ہے،اگرچہ ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام ذکر کیا جاتا رہے۔‘‘
(جُہود علماء الحنفیّۃ في إبطال عقائد القبوریّۃ : 3/1562-1561)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں :
’’فرمانِ باری تعالیٰ﴿وَمَا أُہِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ﴾(المائدۃ : ۳) (اور جو غیر اللہ کے لیے پکارا جائے) سے واضح طور وہ جانور مراد ہے جو غیر اللہ