کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 75
مِنْ ہٰہُنَا عُلِمَ أَنَّ الْبَقَرَۃَ الْمَنْذُورَۃَ لِلْـأَوْلِیَائِ، کَمَا ہُوَ الرَّسْمُ فِي زَمَانِنَا، حَلَالٌ طَیِّبٌ، لِأَنَّہٗ لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ غَیْرِ اللّٰہِ عَلَیْہَا وَقْتَ الذَّبْحِ، وَإِنْ کَانُوا یَنْذِرُونَہَا لَہٗ ’’اس سے معلوم ہوا کہ وہ گائے جسے اولیا کے لیے نذر مانا گیا ہے،جیسا کہ ہمارے زمانے میں رواج ہے،وہ حلال اور پاکیزہ ہے،کیونکہ بوقت ِذبح اس پر غیر اللہ کا نام نہیں لیا گیا،اگرچہ اسے غیراللہ کی نذر کیا گیا ہے۔‘‘ (التّفسیرات الأحمدیّۃ، ص 45) اس شبہ کے جواب میں عالَمِ اسلام کے عظیم سکالر، ممتاز اہل حدیث عالِم، علامہ، ڈاکٹرشمس الدین،سلفی،افغانی رحمہ اللہ (1420ھ)فرماتے ہیں : ’’علمائے احناف نے اس شبہے کا جواب یہ دیا ہے کہ غیراللہ کی نذر ماننے میں اعتبار نیت کا ہو گا،نہ کہ نذر کیے گئے جانور کو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام ذکر کرنے کا۔جس شخص نے کسی میت کے لیے گائے نذر مانی تو وہ محض نذر کرنے ہی سے مشرک ہو جائے گا، خواہ اسے ذبح کرتے وقت اس میت کا نام لے یا نہ لے۔اعتبار تو اس نذر ماننے والے کی نیت کا ہے جو اس میت کا تقرب حاصل کرنا چاہتا ہے اور اس نذر کے ذریعے میت سے مشکلات دُور کرنے اور بھلائیاں قریب کرنے کا طالب ہے،کیونکہ ﴿وَمَا أُہِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ﴾(البقرۃ : ۱۷۳)(اور جسے غیر اللہ کے لیے پکارا جائے)، ﴿وَمَا أُہِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ﴾(المائدۃ : ۳، والنحل : ۱۱۵) (اور جسے غیر اللہ کے لیے پکارا جائے)، ﴿أَوْ فِسْقًا أُہِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ﴾(الانعام : ۱۴۵)