کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 74
شبہات اور ان کا ازالہ : اس مسئلہ میں ایک مخصوص مکتبہ فکر کا مؤقف یہ ہے کہ اگر کسی جانور کو اولیا سے منسوب کر دیا جائے اور وقت ِذبح اللہ کا نام لے لیا جائے تو حلال ہوجاتاہے۔اس لیے وہ آیت کریمہ : ﴿وَمَا اُہِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ﴾ کی تفسیرو تاویل یہ کرتے ہیں کہ وہ جانور حرام ہے، جس پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام پکارا جائے،حالانکہ اس آیت ِکریمہ کو وقت ِذبح کے ساتھ خاص کرنے کی کوئی دلیل نہیں ۔ اس آیت ِکریمہ کے مطابق کسی جانور پر کسی بھی وقت غیر اللہ کا نام پکارنے سے وہ حرام ہو جاتا ہے۔وقت ِذبح بھی اسی حرمت کا ایک موقع اور محل ہے۔ 1.وقت ِذبح کی قید نہیں : [إِہْلَال] کے معنی [رَفْعُ الصَّوْتِ] ’’آواز بلند کرنا‘‘ ہے، یعنی ذبح کے وقت یا ذبح سے پہلے غیراللہ کا نام پکارا جائے تو جانور حرام ہو جاتا ہے۔ اگرچہ مفسرین نے ذبح کے وقت نام پکارنے کو [إِہْلَال] کہا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ عام اوقات میں جانور کو غیراللہ کے نام منسوب کیا جا سکتا ہے۔چونکہ مشرکین کی عام عادت یہ تھی کہ جو جانور انہوں نے غیر اللہ،یعنی بزرگوں کے تقرب و تعظیم میں چھوڑے ہوتے تھے،ذبح کے وقت ان پر انہی کا نام پکارتے تھے۔لہٰذا اگر کسی جانور پر بغرضِ تعظیم و تقرب کسی کا نام پکارا جائے اور وقت ِذبح اللہ کا نام لے کر ذبح کر دیا جائے تو بھی وہ حرام ہی ہو گا۔ اس لیے مفتی احمد یار خان نعیمی صاحب کا یہ کہنا درست نہیں : ’’پکارنے سے مراد وقت ِذبح پکارنا ہے۔‘‘ (جاء الحق : 1/359) ملا جیون حنفی(1130ھ) لکھتے ہیں :