کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 72
کے ساتھ اس بات پر قائم رہیں کہ ہر کام خالص اللہ تعالیٰ کے لیے کرنا ہے۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر : 3/128) عبادات کی تمام انواع جیسے دعا وپکار اور التجا، محبت، خوف، امید ورجا، توکل وبھروسہ، رغبت ورہبت، خشوع وخضوع، رجوع و انابت، استعانت و استغاثہ،ذبح اور نذرو نیاز خالص اللہ کے لیے بجا لائیں ۔ ان میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہرائیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا واجب حق ہے،جو ضروری ہے کہ اسی کے لیے پورا کیا جائے۔ تاحیات اس پر ڈٹے رہنا اور تازیست اس کی دعوت ہر مسلمان کا فریضہ ہے۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ ذَبَحَ لِغَیْرِ اللّٰہِ ۔ ’’غیراللہ کے لئے ذبح کرنے والے پر اللہ کی لعنت ہے۔‘‘ (صحیح مسلم : 1978) مخلوق کے نام پرجانور ذبح کرنا غیر اسلامی عمل ہے۔ اللہ کے علاوہ کسی کی تعظیم وتقرب کے لیے ذبح کرناشرک ہے اور ایسا ذبیحہ حرام ہے اور اس کا گوشت کھانا ممنوع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حرام چیزوں کے بیان میں فرمایا : ﴿وَمَا اُہِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ﴾(البقرۃ : 173) ’’جو چیز اللہ کے علاوہ کسی اور کے نام (بہ نیت عبادت وتعظیم)منسوب ہو۔‘‘ اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ 1.جانور یاکسی اورچیز کو غیراللہ کے لیے نامزد کیا جائے،خواہ ذبح کے وقت اللہ کا نام ہی کیوں نہ پکارا جائے،تب بھی حرام ہے۔