کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 71
ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے اعلان کروایا کہ میں نماز، جو کہ دین کا ستون اور رکن ہے، قلبی عبادات، جیسے خشوع اور توجہ الی اللہ، قولی عبادات، جیسے تکبیر وتحمید، قرآنِ کریم کی تلاوت،وغیرہ،عملی عبادات ،جیسے قیام، رکوع، سجدہ،جلوس وغیرہ، خالص اللہ رب العالمین کے لیے ادا کرتا ہوں ۔ میں صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے جانور ذبح کرتا ہوں ،مشرکین کی طرح انصاب و اصنام کے لیے نہیں ۔ میں ساری زندگی اپنے اللہ کی بندگی اور نیاز مندی میں گزاروں گا اور اسی پر فوت ہوں گا۔ میں اقراری ہوں کہ عبادات کی تمام انواع واقسام میں اللہ رب العالمین کا کوئی شریک و سہیم نہیں ۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) لکھتے ہے :
’’اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرما رہے ہیں کہ وہ غیر اللہ کی عبادت کرنے والے اور اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر جانور ذبح کرنے والے مشرکوں کو بتا دیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اِن کاموں میں اُن کے مخالف ہیں ، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، ذبح اسی کے نام پر کرتے ہیں ، وہ (اللہ) اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ، جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے : ﴿فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ﴾(الکوثر : 2)’’صرف اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور اسی کے نام پر ذبح کریں ۔‘‘ یعنی اپنی نماز اور ذبح اللہ کے لیے خاص کر دیں ، کیونکہ مشرکین مکہ بتوں کی عبادت کرتے تھے اور ان کے لیے جانور ذبح کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرمایا کہ آپ ان کی مخالفت کریں ، ان کی اس رَوَش سے الگ رہیں اور اپنی نیت و قصد اور عزم