کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 70
کبھی غور کیجئے کہ کسی جانور کو اساف،نائلہ،منات وغیرہ سے موسوم کر دیا جائے اور اسے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ، حام کا نام دے دیا جائے یا یہ کہہ دیا جائے کہ یہ اونٹ اور گائے اجمیر کی ’’چھٹی شریف‘‘ کے لیے مختص ہے، یا کہہ دیا جائے کہ یہ گیارہویں کا بکرا ہے یا یہ فلاں کی منت اور نیاز ہے، تو ان دونوں میں بنیادی فرق کون سا باقی رہ جاتا ہے؟ قدیم زمانے میں بھی بزرگوں کی خوشنودی اور ان کا تقرب حاصل کرنے کے لیے ایساکیا جاتا تھا اور آج بھی یہ سب کچھ اولیاء کی تعظیم اور ان کے تقرب کے حصول کے لیے کیا جاتا ہے۔اس لیے کہ جانے انجانے میں ان اولیاء کو خدائی طاقتوں کا مظہر سمجھ لیا گیااور کہہ دیا گیا کہ میرا یہ کام ہو گیا تو میں فلاں مزار پر کالا بکرا ذبح کروں گا یا کالے مرغ کی منت اور چڑھاوا چڑھاؤں گا۔ غیر اللہ کے نام سے منسوب کرنا اور ان کے نام پر ذبح کرنا شرک و کفر ہے۔ایسے جانوراور ایسی اشیا کھانا حرام ہے،یہ جانور اور یہ روپیہ پیسہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے،اللہ تعالیٰ کا واجب حق ہے کہ یہ چیزیں اسی کے نذرانے اور شکرانے میں صَرف ہوں ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ‎﴿١٦٢﴾‏ لَا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ﴾ (الأنعام : 163-162) ’’( نبی!) کہہ دیجیے کہ میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ۔ مجھے یہی حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مطیع ہوں ۔‘‘