کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 69
اولیاء اللہ کے نام پر ذبح! بت پرستی اپنی اصل میں اولیا پرستی ہی تھی۔ مشرکین مکہ کے بت اولیاء اللہ کے نام اور ان کی صورتوں پر ہی متشکل کئے گئے تھے۔قرآنِ کریم نے صاف طور پر اس کا ردّ کیا اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بت پرستی کو مٹانے کے لیے تشریف لائے۔اسلام کی اساس بت پرستی کے قلع قمع پر قائم ہوئی،لیکن بدقسمتی سے اسی کو بعد کے مسلمانوں نے عقیدت و محبت اولیاء کا نام دے کر دین کا حصہ بنا لیا۔آج بعض مسلمانوں نے مشرکین مکہ سے بہت سے مشرکانہ افعال مستعار لے لیے ہیں ۔ اولیاء اللہ کے نام پر جانور ذبح کرنا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔جس طرح مشرکین مکہ اپنے بزرگوں کے ناموں اور مُورتیوں پر مبنی بتوں کے نام پر جانور چھوڑ دیتے تھے،ان کی تقلید میں آج کے بعض مسلمان بھی بزرگوں سے منسوب کر کے جانور چھوڑتے ہیں ۔یہ نامزد جانور عام جانوروں کی طرح نہیں ہوتے،بلکہ ان لوگوں کے نزدیک وہ بڑی ’’حرمت‘‘ والے ہوتے ہیں ۔ وہ جس کھیت میں گھس جائیں ،اس کے مالک کے خیال میں اس کے لئے اچھا شگون ثابت ہوتے ہیں ، وہ جدھر چاہیں جائیں ، کوئی روک ٹوک نہیں ہوتی۔ ان سے کوئی کام بھی نہیں لیا جاتا اور ان کی اپنی ایک پہچان ہوتی ہے۔ لوگ جانتے ہوتے ہیں کہ یہ فلاں درگاہ یا فلاں مزار کا جانور ہے۔