کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 68
کیے جاتے ہیں ، اس میں ممانعت نہیں ، اذن واجازت کو دیکھا جاتا ہے۔ اگر یہ مان لیاجائے کہ ممانعت نہیں آئی، اس لیے جائز ہے تو پھر ہر بدعت دین کا حصہ قرار پائے گی ۔ اگر کوئی عید الفطر سے پہلے اذان کہے ،جبکہ اس کے بارے میں ممانعت صریح کہیں بھی نہیں ہے، تو کیا مستحب کہلوائے گی ؟ علامہ ابوشامہ رحمہ اللہ (665ھ)فرماتے ہیں : کُلُّ مَنْ فَعْلَ أَمْرًا مُوْہِمًا أَنَّہٗ مَشْرُوْعٌ وَّلَیْسَ کَذٰلِک فَہُوَ غَالٍ فِي دِیْنِہٖ مُبْتَدِعٌ فِیہِ قَائِلٌ عَلَی اللّٰہِ غَیْرَ الْحَقِّ بِلِسَانِ مَقَالِہٖ أَوْ لِسَانِ حَالِہٖ ۔ ’’ہر وہ شخص جو کسی ایسے کام کو مشروع سمجھتے ہوئے کرتا ہے، جو مشروع نہیں ہوتا، تو وہ دین میں غلو سے کام لینے والا، بدعت نکالنے والا اور زبانِ قال یا زبانِ حال سے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والا ہوتا ہے۔‘‘ (الباعث علی إنکار البِدَع والحوادث، ص 21-20)