کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 67
کَأَنَّ مَا رَوَی الضَّعِیْفُ وَمَا لَمْ یَرْوِ فِي الْحُکْمِ سَیِّاٰن ۔ ’’گویا کہ ضعیف کی روایت حکم میں نہ ہونے کے برابر ہے۔‘‘ (کتاب المجروحین : 1/328، ترجمۃ سعید بن زیاد الدّاري) حافظ ابن حجرعسقلانی رحمہ اللہ (852ھ) لکھتے ہیں : لَا فَرْقَ فِي الْعَمَلِ بِالْحَدِیْثِ فِي الْـأَحْکَامِ أَوْ فِي الْفَضَائِلِ، إِذِ الْکُلُّ شَرْعٌ ۔ ’’احکام یا فضائل میں حدیث پر عمل میں کوئی فرق نہیں ، کیونکہ دونوں (فضائل اور احکام) شریعت ہی تو ہیں ۔‘‘ (تبیین العجب بما ورد في شھر رجب، ص 2) ضعیف حدیث کو کوئی بھی دین نہیں کہتا۔ جناب احمد یار خان نعیمی صاحب لکھتے ہیں : ’’اور اس کو حرام کہنا محض جہالت ہے، جب تک کہ ممانعت کی صریح دلیل نہ ملے، اس کو منع نہیں کرسکتے۔ استحباب کے لیے مسلمانوں کا مستحب جاننا ہی کافی ہے، مگر کراہت کے لیے دلیل خاص کی ضرورت ہے۔‘‘ (جاء الحق : 1/399) کسی ثقہ مسلمان سے باسند ِ صحیح انگوٹھے چومنے کو مستحب کہنا ثابت نہیں ۔ ہم تو اس فعل کو بدعت کہتے ہیں ، کیونکہ اس پر دلیل نہیں ہے، لہٰذا یہ کہنا کہ ممانعت کی صریح دلیل نہیں ، اس لیے اس کو ناجائز وبدعت نہیں کہنا چاہیے، یہ قول خود لائق التفات نہیں ، کیوں کہ عبادات اوردین کے متعلق احکام اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے