کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 66
دیکھنے کی تمنا کی، تو وہ نور ان کے انگوٹھے کے ناخنوں میں چمکا دیا گیا۔ انہوں نے فرط ِ محبت سے ان ناخنوں کو چوما اور انگوٹھوں سے لگایا۔‘‘
(جاء الحق : 1/398)
ہمیں قرآن وحدیث کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے ،محرف ومبدل کتابوں کی پیروی کا حکم نہیں دیا گیا۔
نیز لکھتے ہیں :
’’اگر مان بھی لیا جائے کہ یہ حدیث ضعیف ہے، پھر بھی فضائل اعمال میں حدیث ضعیف معتبر ہوتی ہے ۔‘‘ (جاء الحق : 1/401)
ٹھیک ہے کہ فضائل میں ضعیف کے معتبر ہونے یا نہ ہونے پر بحث شروع ہو چکی ہے ،گو سلف میں یہ بحث نہ تھی، لیکن بے سند روایت کو تو کسی نے بھی معتبر نہیں کہا۔ دوسرے یہ کہ اس مسئلہ کا تعلق فضائل اعمال سے نہیں ،بلکہ احکام شرعیہ سے ہے کہ اذان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک سن کر انگوٹھے چومنے چاہئیں یا نہیں ، فضائل کی بات تو بعد میں ہے۔ قارئین کرام ! یاد رکھیں دین صحیح روایات کانام ہے، فضائل کا تعلق بھی دین سے ہے۔
امام ابن حبان رحمہ اللہ (354ھ)لکھتے ہیں :
لَمْ أَعْتَبِرْ ذٰلِکَ الضَّعِیْفَ لِأَنَّ رِوَایَۃَ الْوَاہِي وَمَنْ لَّمْ یَرْوِ سَیِّاٰنِِ ۔
’’میں نے اس ضعیف راوی کا اعتبار نہیں کیا، کیونکہ کمزور راوی کی روایت نہ ہونے کے برابر ہے۔‘‘ (الثّقات : 9/159)
نیز لکھتے ہیں :