کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 358
تبصرہ:
یہ الفاظ معنی کے اعتبار سے بھی درست نہیں ۔ جس دن کا روزہ رکھا جارہا ہے، اس کی نیت میں یہ کہنا کہ میں کل کے روزے کی نیت کرتا ہوں ، مضحکہ خیز ہے۔
ملا علی قاری صاحب نے ان الفاظ کو بے اصل قرار دیا ہے۔
(مِرقاۃ المَفاتیح : 4/1387)
نیت دل کے قصد و ارادے کا نام ہے، زبان سے نیت کرنا بدعت ہے۔
فائدہ :
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا :
عَجَبًا لِّتَرْکِ النَّاسِ ہٰذَا الْإِہْلَالَ، وَلِتَکْبِیرِہِمْ مَّا بِي، إِلَّا أَنْ یَّکُونَ التَّکْبِیرَۃُ حَسَنًا، وَلٰکِنَّ الشَّیْطَانَ یَأْتِي الْإِنْسَانَ مِنْ قِبَلِ الْإِثْمِ، فَإِذَا عُصِمَ مِنْہُ جَائَ ہٗ مِنْ نَّحْوِ الْبِرِّ، لِیَدَعَ سُنَّۃً وَّلِیَبْتَدِعَ بِدْعَۃً ۔
’’تعجب ہے! لوگ تلبیہ چھوڑ کر تکبیر کہنے لگے ہیں ، مانا کہ تکبیر اچھی چیز ہے، مگر شیطان انسان کے پاس گناہ کے دروازے سے آتا ہے، جب انسان اس داؤسے بچ جائے، تو نیکی کے دروازے سے آتا ہے تاکہ وہ سنت چھوڑکر بدعت اپنا لے۔‘‘
(مسند إسحاق بن راہویہ : 482، وسندہٗ صحیحٌ)