کتاب: بدعات سنت کے میزان میں - صفحہ 357
امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ (۱۹۸ھ) فرماتے ہیں : إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ہُوَ الْمِیزَانُ الْـأَکْبَرُ، فَعَلَیْہِ تُعْرَضُ الْـأَشْیَائُ، عَلٰی خُلُقِہٖ وَسِیرَتِہٖ وَہَدْیِہٖ، فَمَا وَافَقَہَا فَہُوَ الْحَقُّ، وَمَا خَالَفَہَا فَہُوَ الْبَاطِلُ ۔ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میزان اکبر ہیں ، ہر قول و فعل آپ کی سنت، سیرت اور ہدایت پر پیش کیا جائے گا، جو موافق ہو، وہ تو حق ہے اور جو مخالف ہو، باطل ہے۔‘‘ (الجامع لأخلاق الراوي وآداب السّامع للخطیب : 1/79، وسندہٗ صحیحٌ) حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (۷۷۴ھ) لکھتے ہیں : تُوزَنُ الْـأَقْوَالُ وَالْـأَعْمَالُ بِأَقْوَالِہٖ وَأَعْمَالِہٖ، فَمَا وَافَقَ ذٰالِکَ قُبِل، وَمَا خَالَفَہٗ فَہُوَ مَرْدُودٌ عَلٰی قَائِلِہٖ وَفَاعِلِہٖ، کَائِنًا مَّا کَانَ ۔ ’’تمام اقوال واعمال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال واعمال پر پیش کئے جائیں گے، جو موافق ہوں ، لے لئے جائیں گے اور جو مخالف ہوں ،انہیں رد کر دیا جائے، خواہ ان کا قائل وفاعل کوئی بھی ہو۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر : 6/90) فائدہ : بعض لوگ روزے کی نیت کرتے وقت یہ الفاظ کہتے ہیں : بِصَوْمِ غَدٍ نَوَیْتُ مِنْ شِہْرِ رَمَضَانَ ۔ ’’میں کل کے روزے کی نیت کرتا ہوں ۔‘‘